اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 50
50 نماز کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ نماز آہستہ آہستہ پڑھی جاوے۔نماز تو خدا کا ایک دیدار ہے اس لئے نماز ٹھہر کے پڑھنی چاہئیے کہ جتنی دیر ٹھہر ٹھہر کے پڑھیں گے اتنی دیر تک ہمیں دیدار الہی میسر ہوگا۔حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ آجکل کے مرد عورتوں کے سجدے مرغیوں کے ٹھونگے مارنے کی طرح ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حاصل کرنے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ جتنی دیر نماز میں لگے اچھی ہے۔یا درکھو تم خدا سے آنکھ مچولی تو نہیں کھیلئے جائیں بلکہ اس کا دیدار کرنے جاتی ہو۔اب میں اور احکام شریعت بیاں کرتا ہوں۔نماز کے علاوہ خدا تعالیٰ نے یہ بات مقرر فرمائی ہے کہ اگر انسان کے پاس ۴۰ روپے ہو تو وہ ایک رو پیر اللہ کی راہ میں دیوے۔یہ زکوۃ کے معنے پاک کر دینے کے ہیں۔پس یہ مرد عورتوں کا فرض ہے کہ وہ زکوۃ دیا کریں۔حضرت محمد یہ اس کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر کے وقت میں بعض لوگ زکوة کے منکر ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ ہم زکوۃ نہیں دیتے حتی کہ اتنا شور ہو گیا کہ مدینے اور ایک بستی کے سوا بہت مرتد ہو گئے۔اس وقت حضرت عمرؓ نے جو بہت بہادر تھے ابو بکر سے کہا کہ آپ اس وقت ان سے نرمی کریں پھر آہستہ آہستہ مان لیں گے مگر حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ دیکھو تم کو ڈر ہے کہ یہ بہت ہیں اور ہم تھوڑے اس لئے میں اکیلا جاؤں گا اور زکوۃ کے واسطے ان سے لڑوں گا اور اگر یہ ایک رتی بھی کم دیں گے تب میں ان سے لڑائی کروں گا یہ خدا کا حکم ہے۔دیکھو ان لوگوں نے ایک حکم کی خلاف ورزی کی اور سب کام مسلمانوں جیسے کیا کرتے تھے پھر بھی اُن کے ساتھ کافروں کا سا سلوک ہوا جس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ کیسی ضروری بات ہے۔ہاں جو زیور پہنا جاوے اُس پر ز کو پ نہیں۔للہ تعالی کی طرف سے بندے کے تعلق کے لئے بہت سے سامان ہیں پھر بھی بہت سے وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔ان وسوسوں سے بچنے کے لئے ایک ذریعہ دعا ہے۔مثلا انہیں ایک خزانہ ایسا مل جاوے جس میں سے جب اور جو چیز چاہو وہ مل جاوے۔۔۔۔۔پرانے زمانے کے قصے کہانیاں ہوتے تھے کہ فلاں دیو نے فلاں لڑکے کو ایک ایسی چیز دی جس میں سے جو چاہو نکل آتا تھا مگر یہ تو جھوٹ ہے۔ہاں ایک خزانہ ایسا ہے جس میں ہاتھ ڈالیں تو جو چاہیں مل سکتا ہے۔وہ خزانہ اللہ تعالیٰ ہے اور اس خزانہ سے حاصل کرنے کا دروازہ دعا ہے۔دُعا کے ذریعہ سب کچھیل سکتا ہے۔دُعا بڑاز بردست آلہ ہے اور اسکے مقابل میں ہوا اور