اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 414

414 پرورش کا انتظام کرے تو اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا۔اسی طرح جو چیزیں نوکر کے سپر د تھیں اور جو کام نوکر کے سپرد تھے اس سے ان کے متعلق سوال کیا جائے گا۔پس مردوں کا یہ خیال کرنا کہ عورتیں کسی قربانی میں حصہ نہ لیں اور دین کے کاموں سے علیحدہ رہیں اور اُن کے لئے کھلونا بنی رہیں یا عورتوں کا یہ سمجھنا کہ انہیں کسی قسم کی قربانی میں حصہ نہیں لینا چاہیئے یہ دونوں نقطہ نگاہ غلط ہیں۔جب تک ہماری عورتیں اور ہمارے مرد اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کریں گے اور اور اس اختلاف کو دور کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اُس وقت تک کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔اسی اختلاف کو دُور کرنے کے لئے میں نے لجنہ اماء اللہ کی مجلس قائم کی۔اور لجنہ اماء اللہ کے معنے ہیں اللہ تعالے کی لونڈیوں کی مجلس۔جس طرح مرد کے لئے سب سے پسندیدہ نام عبداللہ ہے اسی طرح عورت کے لئے سب سے پسندیدہ نام لمتہ اللہ ہے۔قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کی خوبیوں میں سے جس خوبی کا نام اللہ تعالیٰ نے لیا ہے وہ عبداللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا بندہ گویا اللہ تعالے کا بندہ ہونا سب سے بڑی خوبی ہے۔اسی طرح عورت کے لئے سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالے کی لونڈی ہو۔جس طرح غلام پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے آقا کے تمام حکموں کو پورا کرے اسی طرح میں نے تمھیں یہ نام دے کر توجہ دلائی تھی کہ تم اللہ تعالے کی لونڈیاں بننے کی کوشش کرو اس وقت تمھارے لئے موقعہ ہے کہ تم ایسے کام کرو جن سے تم اپنے آقا کو راضی کر لو اور جب تم اس کے سامنے جاؤ تو تم اس سے انعام کی امیدوار ہو اور تمھارے لئے یہ بھی موقعہ ہے کہ تم فرائض کو پس پشت ڈال کر اللہ تعالیٰ کی ناراستگی کی مورد بنو اور مجرم کی حیثیت میں اس کے سامنے پیش ہو۔اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ سے انعام حاصل کرنے کے لئے پیش کیا جائے گا اور اس شخص میں جو اللہ تعالے کے سامنے مجرم کی حیثیت میں پیش ہوگا زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ایک شخص جو بادشاہ کے سامنے مجرم کی حیثیت میں پیش ہوتا ہے اور ایک جرنیل جو بادشاہ کے دربار میں انعام حاصل کرنے کے لئے پیش ہوتا ہے ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے جرنیل پر لوگ رشک کرتے ہیں لیکن مجرم کی حالت پر افسوس کرتے ہیں حالانکہ دونوں ایک ہی بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے لیکن ایک مجرم کی حیثیت میں ندامت سے اپنا سر جھکائے ہوئے تھا اور دوسرا اپنی کامیابی پر خوش تھا اور دنیا اُس پر رشک کرتی تھی۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور انکے مطابق اپنے اندر بیداری پیدا کرو، اللہ تعالے کی نگاہ میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں، اور دونوں کی ذمہ دایاں یکساں ہیں۔