اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 394

394 کمیٹی کہتے ہیں عربی میں اس کا نام لجنہ ہے۔پس ہر احمدیہ جماعت میں مستورات کی ایک کمیٹی ہو۔جہاں پڑھی لکھی عورتیں موجود ہوں وہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ سے خط و کتابت کر کے قواعد وغیرہ منگوالیں اور اپنے ہاں کی عورتوں کو جمع کر کے اُن کو وہ قواعد وغیرہ سنائیں اور لجنہ قائم کریں اور جہاں پڑھی لکھی عورتیں موجود نہ ہوں وہ کسی مرد سے خط لکھوا لیں اور مرکزی لجنہ کو اطلاع دیں اور اپنی ضروریات اُن کے سامنے بیان کریں۔اور اگر وہ عورتیں یہاں جلسہ پر آئی ہوئی ہوں تو وہ خود لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی کارکنوں سے مل کر اپنی ضرورتیں ان کے سامنے بیان کریں تا کہ مرکزی لجنہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے مسئلہ کو حل کر سکے اور ہر جماعت میں لجنہ قائم ہو سکے۔پس جب تک تمام عورتوں تک آواز نہ پہنچائی جاسکے اس وقت تک کام نہیں ہو سکتا۔اور آواز پہنچانے کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تمام عورتوں کو منظم کیا جائے اور ہر گاؤں اور ہر قصبہ اور ہر شہر میں بنائیں قائم کی جائیں۔اس وقت ہندوستان سے باہر بھی بعض جگہوں پر لجنا ئیں قائم ہیں لیکن نہ تو ہندوستان کے اندر پوری طرح کام ہو رہا ہے اور نہ باہر ہی کام ہورہا ہے۔پس میں جماعت کی خواتین کو خصوصیت کے ساتھ یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ یہاں سے یہ پختہ ارادہ کر کے جائیں کہ اپنے شہر اور اپنے گاؤں میں لجنہ قائم کئے بغیر وہ دم نہیں لیں گی۔اور اگر ان کے ہاں پڑھی لکھی عورتیں نہ ہوں اور خط و کتابت کرنے میں دقت ہو تو وہ کسی مرد سے خط لکھوائیں اور لجنہ مرکزیہ کو اطلاع دیں اور اپنی ضروریات اُن کے سامنے بیان کریں یا مجھے خط لکھوادیں میں اُن کی ضروریات پورا کرنے کا انتظام کرادوں گا۔میرا منشاء ہے مبلغین کے سپر د بھی یہ کام کیا جائے کہ جہاں جہاں وہ جائیں وہاں لجنہ اماءاللہ ضرور قائم کریں اور اس سال کے اندر اندر ہر گاؤں ہر قصبہ اور ہر شہر میں یہ کام ہو جائے۔اس وقت گاؤں تو الگ رہے کئی شہروں میں بھی ابھی بنا ئیں قائم نہیں۔پس اس سال اس کے لئے پوری پوری کوشش ہونی چاہیے کہ ۱۹۳۵ کے اندراندر میر جماعت میں عورتوں کی تعظیم اور لجنہ کا قیام ہو جائے تا کہ اگر خدا تعالے توفیق دے تو دوسرے سال عورتوں کی اصلاح اور تربیت کی طرف قدم اٹھا سکیں۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو بھی میں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے دفتر کو مضبوط کرے اور اپنے کام کی اہمیت کو سمجھے۔اس وقت تک قادیان کی لجنہ اماءاللہ کو ہی لجنہ مرکز یہ سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ ہونا یہ چاہیئے کہ قادیان کی لجنہ دوسرے شہروں کی بناؤں کی طرح الگ ہو اور لجنہ مرکز یہ الگ ہو پھر لجنہ مرکز یہ چھ سات مختلف کاموں