اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 390

390 کسی سے ملنا چاہو تو ہم اس کا انتظام کر دیں۔اس نے کہا ہاں میری ماں کو بلا دو۔میں اُس سے ملنا چاہتا ہوں۔چنانچہ جب اس کی ماں کو بلایا گیا تو اس نے اپنی ماں سے کہا میں کان میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ماں نے جب اپنا کان اس کے قریب کیا تو اُس نے اتنے زور سے اس کے کان پر کاٹا کہ وہ تڑپ اُٹھی۔جیل کے ملازم جو قریب تھے یہ نظارہ دیکھ کر کہنے لگے۔ارے ظالم تم ابھی چند منٹ کے اندر پھانسی کے تختے پر چڑھنے والے ہو پھر ایسا ظلم کر رہے ہو یہ کہاں کی شرافت ہے کہ تم نے اس آخری وقت میں اپنی ماں کا کان کاٹ کھایا۔اُس نے کہا آج اسی ماں کی وجہ سے تو مجھے پھانسی کی سزا ملی ہے اگر یہ میری صحیح تربیت کرتی تو آج میں بھی نیک انسان ہوتا۔لیکن اس نے میری صحیح تربیت نہ کی بچپن میں جب میں غلطیاں کرتا تو یہ ماں اُن غلطیوں پر پردہ ڈالتی۔اگر میں کسی کی کوئی چیز اٹھاتا اور وہ اس کی تلاش میں میرے پیچھے آتے تو یہ کہہ دیتی کہ میرا بچہ تو تمہاری چیز نہیں لایا۔اسی طرح آہستہ آہستہ میرے اخلاق بگڑتے گئے یہاں تک کہ میں ظالم، چور اور ڈاکو بن گیا اور آج میں ان گناہوں کی وجہ سے پھانسی کی سزا پانے والا ہوں۔پس عورت اس صورت میں صحیح معنوں میں حوا کی بیٹی کہلا سکتی ہے جب وہ بچوں کی صحیح تربیت کرے۔اور اُن کے اخلاق کی نگرانی کرے اگر بچوں کے اخلاق کی نگرانی نہیں کرتی تو وہ ہرگز ھوا کی بیٹی اور گھر کی مالکہ کہلانے کی مستحق نہیں۔پس حوا کی بیٹیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح رنگ میں تربیت کریں۔قوم میں جنت ماؤں کے ذریعے ہی آتی ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔یہ کتنا لطیف فقرہ ہے۔اور آنحضرت ﷺ نے ماں کی کتنی اہمیت بیان فرمائی ہے۔عام طور پر لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ ماں کی اطاعت اور فرمانبرادری میں جنت ملتی ہے یہ بھی درست ہے۔لیکن اس کے اصل معنے یہ ہیں کہ در حقیقت قوم میں جنت تبھی آتی ہے جب مائیں اچھی ہوں اور اولاد کی صحیح تربیت کرنے والی ہوں۔اگر مائیں اچھی نہ ہوں اور اولاد کی صحیح تربیت نہ کریں تو اولاد بھی کبھی اچھی نہیں ہوگی۔اور جس قوم کی اولا دا اچھی نہیں ہوگی اُس قوم میں جنت بھی نہیں آئے گی۔پس در حقیقت قوم میں جنت ماؤں کے ذریعے سے ہی آتی ہے۔قوم کی مائیں جس رنگ میں بچوں کی تربیت کریں گی اُسی رنگ میں اُس قوم کے کاموں کے نتائج بھی اچھے یا برے پیدا