اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 28
28 کہ غیر احمدی پڑھے ہوئے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ایک احمدی زمیندار جو بالکل ان پڑھ ہے اور یوں بھی سیدھا سادہ معلوم ہوتا ہے۔اُس نے سنایا کہ میرے رشتہ دار مجھے ایک شیعہ مولوی کے پاس لے گئے کہ وہ مجھے سمجھائے۔اُس نے مجھ سے پوچھا۔بتاؤ آنحضرت والے مسلمانوں کے کیا لگتے ہیں؟ میں نے کہا باپ۔پھر اُس نے پوچھا آنحضرت ﷺ کی بیٹی مسلمانوں کی کیا لگتی ہے؟ میں نے کہا ہن۔وہ کہنے لگا۔اچھا مرزا صاحب نے جو سیدانی سے نکاح کیا ہے وہ کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟ میں نے کہا حضرت علیؓ نے تو رسول کریمہ کی خاص بیٹی سے نکاح کیا تھا اسے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ حضرت مرزا صاحب نے تو نہ معلوم کتنی پشتوں کے بعد جا کر نکاح کیا تھا۔مولوی نے کہا حضرت علی تو بزرگ انسان اور خدا کے پیارے تھے۔میں نے کہا حضرت مرزا صاحب کو ہم اُن سے بھی بڑھ کر مانتے ہیں۔اس پر وہ لا جواب ہو گیا اور کہنے لگا جا تیری عقل ماری گئی ہے۔اسی قسم کی اور کئی ایک مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان سچائی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑلے تو پھر کوئی اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔سچائی ایک تلوار ہے جس کے ہاتھ میں ہوگی وہ دشمن کا سر اُڑا دے گا اور اگر بچہ بھی مارے گا تو زخمی ضرور کر دے گا اسی طرح گو پڑھا ہوا انسان دشمن کے مقابلہ میں بڑا کام کر سکتا ہے مگر ان پڑھ بھی اگر دین سے واقفیت حاصل کر لے تو غالب ہی رہے گا۔اس لئے ان پڑھ عورتوں کو بھی موٹی موٹی دلیلیں سیکھ لینی چاہیئے اور جہاں عورتیں مل جائیں اُن کو تبلیغ کرنی چاہیئے۔تبلیغ کرنے کے مواقع آجکل ریلوں میں عورتوں کو خوب تبلیغ کا موقع مل سکتا ہے۔یہاں آتے ہوئے راستہ میں دوستوں نے مجھے بتایا کہ ایک عیسائی عورت مسلمان عورتوں سے گفتگو کر رہی ہے جو اُسے کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔میں نے اپنے گھر سے اس کمرہ میں بھیج دیا اور مختصر طور پر بتا دیا کہ اول تو وہ تمہیں مسلمان دیکھ کر خود بخود اعتراض کرے گی۔اُس کا اس طرح جواب دیتا۔اور اگر وہ اعتراض نہ کرے تو تم خود یہ اعتراض کرنا لیکن اتفاق کی بات ہے عیسائیوں کا سب سے بڑا اعتراض اور اُس کا جواب مجھے بتانا بھول گیا۔جب وہ گئیں تو اُس نے وہی اعتراض کر دیا۔اس کا جواب میں نے کسی وقت عورتوں کے درس میں بیان کیا ہوا تھا جو انہوں نے دیدیا۔اُس نے کہا تمہارے قرآن میں لکھا ہے کہ عورتوں میں روح نہیں ہے اس