اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 338
338 عورتیں ہمیشہ آدمی کے معنے مرد لیتی ہیں۔اگر کسی مجلس میں مرد بیٹھے ہوں اور عورتوں سے پوچھا جائے کہ وہاں کون ہیں تو جواب دیتی ہیں کہ آدمی بیٹھے ہیں۔حالانکہ آدمی کا مطلب انسانوں سے ہے۔اور جس آدم کی اولا دمرد ہیں اسی طرح عورتیں۔پھر جب عورتیں بیٹھی ہوں تو مرد کہہ دیتے ہیں کہ کوئی آدمی اندر نہ آئے وہاں عورتیں بیٹھی ہیں۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ دو نسلیں ہیں۔ایک آدم کی دوسری شیطان کی۔جب مرد اپنے آپ کو آدم کی اور عورتوں کو شیطان کی ذریت قرار دیں گے تو کیسے ترقی کر سکیں گی۔یہ خیال اتنا غالب آگیا ہے کہ جب بھی پڑھی لکھی عورت خواہ وہ گریجویٹ ہو یا مولوی مردوں کا ذکر کرے گی تو آدمی کہہ کر کرے گی حالانکہ خدا تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں میں انسانیت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوَجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرٌ أَوَّنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالا رُحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا فرمایا ! اے مرد اور عورتوں ! ہم تمہیں ایک بات بتاتے ہیں اسے یادرکھو۔تم پر کئی دفعہ مصیبتیں آتی ہیں۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عورت کا بچہ بہار ہوتا ہے، کبھی خاوند، کبھی قرضہ ہو جاتا ہے، کبھی محلے والے دشمن ہو جاتے ہیں، کبھی تجارتوں میں نقصان ہو جاتا ہے، کبھی کوئی مقدمہ ہو جاتا ہے، اس وقت تمہیں بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے۔تم ادھر ادھر پھرتے ہو کہ کوئی پناول جائے ، کوئی دوست تلاش کرتا ہے ، کوئی وکیل تلاش کرتا ہے، کوئی رشتہ دار کے پاس جاتا ہے۔فرماتا ہے۔اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہو۔ہم تمہیں ایک آسان راستہ بناتے ہیں - وه يه كه اتَّقُوا رَبَّكُمْ۔تم اس تکلیف کے وقت اللہ تعالیٰ کو ڈھال کیوں نہیں بنا لیتے۔چھوٹے بچے میں سمجھ نہیں ہوتی لیکن اس پر بھی جب مصیبت آئے تو سید ھاماں کی طرف بھاگتا ہے۔مگر بڑے آدمیوں کو دیکھو کوئی مشرق کی طرف جائے گا کوئی مغرب کی طرف کوئی جنوب کی طرف اور کوئی شمال کی طرف اور ان میں یہ پرا گندگی پائی جائے گی۔تو فرمایا کہ اے انسان تو بچپن میں سمجھ نہیں رکھتا تھا۔تو ماں کی طرف بھاگتا تھا۔اب تو تو جوان ہو گیا ہے۔اب اُس خدا کی طرف کیوں نہیں بھاگتا جس نے تجھ کو پیدا کیا۔بچپن میں تمہیں خدا کی سمجھ نہیں تھی اب تو تم بڑے ہو گئے ہو۔تم کیوں یہ خیال نہیں کرتے ہو کہ تمہارے ماں تو تمہاری حفاظت کر سکتی تھی مگر خدا نہیں کرسکتا۔