اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 323
323 کی تربیت میں ہی لگی رہیں تو وزیر وکیل اور جرنیل کیسے بنیں گی اور دنیا میں امن قائم نہیں کر سکتیں۔لیکن تم اسلام میں رہ کر یہ نہیں کہ سکتیں۔بے شک تم عیسائی قوم کو اس کا جواب نہیں دے سکتیں لیکن اسلام نے تو تمہارا یہ اعتراض دُور کر دیا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ اگر تمہارا بیٹا جرنیل بنے گا اور وزارت کے کام کر کے دُنیا میں امن قائم کرے گا تو اس کا ثواب بھی تم کو ملے گا کیونکہ یہ تم ہی تھیں جس نے ایسا بیٹا بنایا جس نے دنیا میں کا رہائے نمایاں کئے۔غرض جس جنت کا تمہارا بیٹا وارث ہو گا اُسی جنت کی اسلام نے تم کو حقدار ٹھہرایا ہے۔پس تمہاری تمام تر کامیابی کا انحصار تمہاری اولاد کی تربیت پر ہی تھی۔تم نماز و روزہ اور صدقہ و خیرات کی پابند رہو۔اگر تم ان باتوں پر کار بند نہ ہو گی تو تمہاری اولادیں کس طرح احکام شریعت کی پابند ہوں گی۔تم اپنے نیک نمونہ سے ہی ایک حد تک اپنی اولاد کی تربیت کر سکتی ہو کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ انسان جو نمونہ دکھاتا ہے اردگرد کے لوگ اس کا نمونہ قبول کرتے ہیں اور بچہ میں تو نقل کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔اگر مائیں اپنی اولادوں کے لئے نیک نمونہ نہیں بنتیں تو یقیناً اُن کی اولادوں کی تربیت اچھی طرح ہونا ناممکن ہے۔پھر قر آن کریم میں اللہ تعالیٰ نے علم کی شرط مرد اور عورت کے لئے برابر رکھی ہے۔وہ تعلیم جو دُنیا کی اغراض کے لئے حاصل کی جاتی ہے اُس کا ثواب نہیں ملتا۔خدا تعالیٰ اُن نیکیوں کا بدلہ دیتا ہے جن کا بدلہ اس دُنیا میں نہیں ملتا۔مرد بیشک اکثر دنیا کی اغراض کے لئے تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر ایسی تعلیم کا اُن کو کوئی ثواب نہیں ملتا۔ہاں عورتوں کے لئے تعلیم مکمل کر کے ثواب حاصل کرنے کا زریں موقع ہے کیونکہ عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں دنیاوی غرض کوئی نہیں ہوتی بلکہ تعلیم کی غرض محض تعلیم ہی ہے اس لئے عور تمیں تعلیم حاصل کر کے ثواب حاصل کر سکتی ہیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم روزہ رکھتے ہو، تم نمازیں پڑھتے ہولیکن اس دُنیا میں تمہیں اس کا بدلہ نہیں ملتا اس لئے میں آخر میں تم کو اس کا بدلہ دوں گا۔تم اپنے لڑکوں کو تعلیم دلواتے ہو، وہ پڑھ کرنوکر ہوتے ہیں تمہیں کھلاتے ہیں، پہناتے ہیں تو تم نے اُن کو تعلیم دلوانے کا بدلہ پالیا۔لیکن جولڑ کی کی تعلیم پر تم خرچ کرتی ہو اس کا ثواب تمہیں اس دُنیا میں نہیں ملتا۔اس کے لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص کی دولڑکیاں ہوں وہ اُن کو اعلی تعلیم دلواتا ہے اور اُن کی اچھی تربیت کرتا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔تو لڑکیوں کی تعلیم کے لئے جنت کا وعدہ ہے مگر لڑکوں کے لئے نہیں۔یہ تربیت کا کام معمولی نہیں۔تمہیں خود علم ہو گا تو دوسروں کو علم سکھاؤ گی اس لئے تم پہلے خود تعلیم حاصل کر دتا اپنی اولادوں کی صحیح