اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 321
321 آج بھی خدا نخواستہ جماعت احمدیہ میں کوئی خرابی واقعہ ہوئی تو اس کی عورتیں ہی ذمہ دار ہوں گی۔الغرض ماؤں کی ذمہ داری اس قدر اہم ہے کہ اگر مخلص مرد چاہیں کہ وہ اپنی اولادوں کی تربیت کریں تو اُن میں ایسا کرنے کی طاقت نہ ہوگی۔کیونکہ بچوں کی تربیت کرنے کی طاقت اور ملکہ عورت میں ہی ہے اس لئے تمہیں چاہئے کہ تم اپنی اس اہم ذمہ داری کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کرو بلکہ پوری توجہ سے اس فریضہ کو ادا کرو۔تم میں سے کتنی ہیں جو یہ چاہتی ہیں کہ تمہارا بچہ خوبصورت ہو، تندرست ہو، اگر وہ بدصورت ہوتا ہے یا کالا ہوتا ہے تو تم سارے جہاں کے پوڈر لگا لگا کر اُس کو خوبصورت بنا کر دیکھنے کی کوشش کرتی ہو۔لیکن اگر تم اُس کو انسانوں والی شکل دے بھی دو مگر اُس کی رُوح انسانوں والی نہ ہو تو کیا تم اس کو دیکھ کر خوش ہو گی ؟ اگر تم اپنے بچوں کی رُوح کی خوبصورتی کی پرواہ نہ کرو گی تو تم اُس کی سخت ترین دشمن ثابت ہوگی کیونکہ تم نے ظاہری زیبائش اور آرائش میں کوئی کمی نہ کی مگر اُس کے اندر شیطان پیدا ہو گیا۔پس اگر آج کی عورتیں اپنے بچوں کی تربیت کا خیال چھوڑ دیں گی تو آئندہ نسل انسان نہیں بلکہ سانپ اور بچھو پیدا ہوں گے۔تو پھر کیا تم اُس وقت جب سانپ اور بچھو انسانوں کی شکل میں آجائیں اُن کو دیکھ کر خوش ہو گی ؟ اگر تمہارے ہی بیچے تمہاری تربیت کے نتیجہ میں کسی دن نیک ہوں گے تو تمہارے لئے اور تمہاری رُوحوں کے لئے دعا ئیں کریں گے ورنہ وہ تم پر لعنت کے سوا اور کیا بھیجیں گے۔ایسی کئی مثالیں ہیں کہ مائیں اپنے بچوں کو چوری اور ڈاکے اور جھوٹ کی عادتیں ڈالتی ہیں۔مثلاً ایک بچہ کو چوری کی عادت تھی وہ باہر سے سکول سے چیزیں پھر اپر اگر گھر لا تا اور ماں اُس سے وہ چیزیں لے لیتی۔ایسی ہی باتوں کے نتیجہ میں وہ پکا چور اور قاتل بن گیا۔اُسے پھانسی کی سزاملی جیسا کہ قاعدہ ہے۔اُس لڑکے سے بھی پھانسی دئے جانے سے قبل پوچھا گیا تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ اُسنے کہا کہ مجھے میری ماں سے ملا دو۔جب اُس کی ماں آئی تو اس نے اس کے کان میں بات کہنے کے بہانے پر اس کے کان کو دانتوں سے کاٹ ڈالا۔لڑکے نے اس فعل کی نسبت دریافت کئے جانے پر بتلایا کہ اگر یہ میری ماں نہ ہوتی تو آج میں پھانسی نہ چڑھتا۔اس نے ہی مجھے انسان سے شیطان بنایا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ عملی طور پر ہی بدیاں اور بری باتیں مائیں اپنے بچوں کو سکھائیں بلکہ بے پروائی اور بے تو جہی سے جو بدیاں بچے میں پیدا ہو جائیں یا جو بری عادتیں وہ سیکھ لیتا ہے اس کی ذمہ داری بھی عورتوں پر ہی آتی ہے۔تم میں سے بہت ہیں جو یہ کہیں گی کہ میرا بچہ بے شک کلمہ نہ پڑھے لیکن زندہ رہے۔لیکن تم میں سے