اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 303

303 عیسائی کرے تو کر سکتا ہے۔اس کے بعد پھر اختلاف پیدا ہوا عبد اللہ بن سبا سے۔اُس نے یہ عقیدہ پھیلانا شروع کیا کہ وہ خدا جس نے قرآن نازل کیا تم کو پھر اس مقام پر لائے گا تو صحابہ نے اُس کو مرتد خیال کیا۔اگر عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم بھی زندہ ہیں۔جو آیت ابو بکڑ نے پڑھی اس کے تو یہی معانی ہو سکتے ہیں کہ یا تو عیسے کو رسول نہ مانا جائے اور یا پھر رسول کریم نے پہلے اور عیسیٰ علیہ السلام بعد میں۔مگر یہ سب پر واضح ہے کہ عیسی علیہ السلام پہلے آئے اور وہ رسول بھی تھے۔پس اس آیت کے موجب وہ 63 فوت ہو گئے۔کیونکہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول قَد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ نبی کریم نے سے پہلے کے تمام رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس صحابہ کی گواہی اور قرآن مجید کی گواہی کے بعد اور کونسا گواہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موٹی دلیل پیش کی ہے۔یاد رکھیں تین آیتیں قرآن مجید کی ہیں۔جو عورتیں یاد کر لیں پھر اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ایک تو وہ آیت جو ابو بکڑ نے پڑھی ما مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُول قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل اور دوسری آیت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ کے آخری رکوع میں فرمایا :۔وَاذْ قَالَ الله يَعِسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ الْهَيْنَ مِنْ دُونِ اللهِ ، قَالَ سُبُحْنَكَ مَا يَكُونُ لِى أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقِّ وَ إِنْ كُنْتُ قُلْتُه فَقَدْ عَلِمْتَهُ طَ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ طَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغَيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا آمَرُ تَنِي بِهِ أَن عُبُدُوا الله رَبِّي وَرَبَّكُمُ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدٌ َامَّا دُمْتُ فِيهِمُ ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ ج عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَبِيءٍ شَهِيدًا هِ یعنی جب خدا پوچھے گا کہ اے عیسی مریم کے بیٹے ! کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو دو خدا مانو ؟ عیسی جناب الہی میں عرض کریں گے۔اے خدا میری کیا مجال تھی کہ میں وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہیں۔اگر میں نے ایسا کہا تو حضور کو علم ہے۔تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور مجھے تیرے علم کا احاطہ نہیں۔تو ہی غیبوں کو جانے والا ہے۔میں نے وہی کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا۔یہی کہ ایک اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے اور میں اُن پر نگران رہا جب تک اُن میں زندہ موجودرہا اور وہ توحید پر قائم رہے۔پھر جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی اُن کا نگران حال تھا۔اللہ تعالیٰ یہ سوال قیامت کو کرے