اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 289
289 ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کیا ہے حقیقی اسلام ہے تو وہ احمدیت ہی ہے۔پس اگر اس وقت احمدیت خطرے میں ہے تو اسلام خطرے میں ہے۔اب جو اسلام مولوی پیش کرتے ہیں وہ ہرگز ماننے کے قابل نہیں۔غیر مسلموں کے سامنے یہ اسلام کی تعلیم بُرے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی غیر مسلم مسافرا کیلامل جائے تو اُس کا مال چھین لو ، اگر کسی کافر کی بیوی مل جائے تو بغیر نکاح کے جائز ، تو ایسے اسلام کو کون مانے گا۔پھر علماء کہتے ہیں کہ جہاد کا مسئلہ اصل اسلام ہے ، ہندو، عیسائی سکھ جو بھی ہو اُس کا قتل جائز ،اُس کا مال لے لینا جائز ، حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک دفعہ امرتسر گیا اور ایک آدمی کو چار آنے دئے کہ کچھ مٹھائی خرید لاؤ۔جب وہ چیز لے کر واپس آیا تو پیسے بھی اُس کے ہاتھ میں تھے۔میں نے پوچھا تم چیز بھی لائے ہو اور پیسے بھی واپس لائے ہو۔کہنے لگا کہ یہ مال غنیمت کا ہے میں نے دکان دار کو کہا کہ اندر سے دوسری چیز مجھے لا کر دکھاؤ وہ اندر سے چیز لینے گیا تو میں نے اٹھنی اُس کی اُٹھالی۔میں نے کہا تم نے یہ چوری کی ہے۔کہنے لگا وہ تو ہندو تھا مسلمان نہ تھا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ احسان ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیم پیش کی ہے۔اگر کوئی اسلام کی یہ تعلیم پیش کرے کہ ہندو ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو، ان کو مارڈان کی چوری کرو تو کیا کوئی ایسے اسلام کو مانے گا؟ ہرگز کوئی ماننے کو تیار نہ ہو گا۔اس بناء پر وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد کو منسوخ کر دیا ہے اور آج کل مولویوں نے جگہ جگہ جتھے بنائے ہیں اور کہتے ہیں چونکہ اسلام جہاد کا حکم دیتا ہے اور یہ اس کے برخلاف ہیں اس لئے ان کو اور ان کی جماعت کو تباہ کر دو کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کی تلوار توڑ دی۔وہ جماعت احمدیہ کی تباہی و ایذارسانی کے کیوں درپے ہیں؟ اسی لئے کہ حضرت صاحب نے ظلم اور بے ایمانی دُور کی۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو کابل والوں نے اسی لئے مروایا تھا کہ وہ کہتے تھے انگریزوں کو نہ مارو۔اسی طرح ایک اور احمدی تھا جوا کیلا تھا ، اُس کا باپ اور رشتہ دار غیر احمدی تھے ، اُس کو کھانا کھلانے سے پہلے اس طرح مارا جاتا تھا جیسے کھانے کے ساتھ سالن لیا جاتا ہے اور ہر روز اُسے اسی طرح مارا جاتا تھا۔ایک دفعہ اُس کے بھائی اُس کو مار رہے تھے کہ اُس کا باپ آ گیا اور وہ چلایا کہ میں مر گیا تو اس کے باپ کو کچھ رحم آ گیا اور کہا کہ اس کو چھوڑ دو۔دو سال برابر اس کی یہی حالت رہی صرف اس پر غصہ یہی تھا کہ وہ احمدی ہو گیا ہے۔اسی طرح نارووال کا ایک شخص جو تجارت کیا کرتا تھا اس کو بڑی تکلیفیں پہنچائی گئیں۔کابل کی حالت تم سن چکی ہو جو جو حالات وہاں