اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 263

263 صلى الله ایک مسلمان جرنیل کی بیوی پھر عورت کی بہادری کا ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں۔حضرت سعد بن وقاص بڑے بہادر آدمی تھے اور رسول کریم ﷺ کے ساتھ کئی جنگوں میں شریک رہ چکے تھے اور اس میں کیا شبہ ہے رسول کریم ﷺ کی زندگی میں لڑائی جیسی سخت ہوتی تھی بعد میں کبھی نہیں ہوئی کیونکہ اُس وقت آپ کی حفاظت کا سوال بھی ہوتا تھا۔تو آپ کے بعد ایک جنگ میں آپ جرنیل تھے اور آپ کی بیوی بھی ساتھ تھی جو ایک مسلمان جرنیل کی بیوہ تھیں مگر ان کی وفات کے بعد سعد بن وقاص سے شادی کر لی تھی۔آپ کے بدن پر بہت پھوڑے نکلے ہوئے تھے اس لئے جنگ میں شامل نہ ہو سکے۔عورت کی یہ فطرت ہے کہ بیوہ یا مطلقہ ہونے کی صورت میں وہ دوسرے خاوند کے سامنے اپنے پہلے خاوند کا ذکر نہیں کرتی کیونکہ اگر اُس کے دل میں واقعی اس کا احترام ہو اور وہ اس کا نام لیتے ہوئے اس کا اظہار نہ کرے تو یہ غداری ہوتی ہے اور اگر کرے تو دوسرے خاوند کے دل میں شک پیدا ہوتا ہے۔حضرت سعد ایک اونچی جگہ پر بیٹھے تھے اور وہیں سے احکام صادر کر رہے تھے۔آپ پرچے لکھ لکھ کر پھینکتے جاتے تھے اور سپاہی آگے لے جا کر افسروں کو پہنچاتے جاتے تھے۔ایرانیوں کا ایک سفید ہاتھی تھا جو قد وقامت میں بھی بہت بڑا تھا اور لڑائی کے لئے بھی اسے خاص طور پر تیار کیا گیا تھا اس نے مسلمانوں کا ایک قبیلہ سارے کا سارا مارڈالا اور اس میں سے ایک بھی زندہ نہ چھوڑا سعد بیٹھے پہلو پر پہلو بدلتے مگر بیماری کی وجہ سے کچھ نہ کر سکتے تھے صرف حکم لکھتے جاتے۔اُن کی بیوی کو بھی سخت اضطراب تھا۔جب اُسنے دیکھا مسلمان اس طرح ہے جا رہے ہیں تو وہ بے اختیار اپنے پہلے خاوند کا نام لے کر چلا اٹھی۔کاش آج منے ہوتا! یہ ایک ایسی طنز تھی جو سعد سے برداشت نہ ہوسکی۔وہ وہ شخص تھے جنہوں نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ لڑائیوں میں بڑے بڑے کار ہائے نمایاں کئے تھے اور اب اگر معذور نہ ہوتے تو ضرور میدان جنگ میں ہوتے تاہم اُن کی بیوی کا منشاء یہ تھا کہ خواہ کچھ ہوضر ور میدان میں جاؤ۔بیوی کی اس طئر سے انہیں سخت غصہ آیا اور انہوں نے اُسے ایک تھپڑ مار دیا۔بیوی نے کہا یہ کیا بہادری ہے کہ ایک عورت کو تو تھپڑ مارتے ہو اور دشمن مسلمانوں کو شہید کرتے جارہے ہیں ان کے مقابلے کے لئے نہیں نکلتے۔حضرت سعد پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے خیال کیا جب میری بیوی کو یہ خیال ہے تو ممکن ہے دوسرے مسلمان بھی یہی مجھتے ہوں کہ میں ڈر کی وجہ سے میدان میں نہیں آتا اس لئے شام کو انہوں نے سارا لشکر جمع کیا اور کپڑے