اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 262
262 حالت میں پیچھے بھاگتے ہو۔ابو سفیان کی طبیعت با مذاق تھی۔دو یقینا بہادر آدمی تھے صرف ساتھیوں کے پیچھے بنے نے انہیں مجبور کر دیا تھا کہ پیچھے ہیں لیکن جس وقت ہندہ نے یہ فقرہ کہا تو انہوں نے بیچ کر ساتھیوں کو پکارا اور کہا واپس آؤ یہ بھاگنے کی موت اُس موت سے بدتر ہے جو میدان جنگ میں آئے۔چنانچہ مسلمان پھر آگے بڑھے اور میدان مارلیا۔تو یہ عورت کا ایک فقرہ تھا جس نے جنگ کا نقشہ بدل دیا اور یہاں تک لکھا ہے کہ نصف گھنٹہ تک عورتیں خود لڑتی رہیں اور جو gap ہو گیا تھا چو ہیں، قناتیں غرضیکہ جو کچھ کسی کے ہاتھ میں آیا لے کر اُس کی حفاظت کرتی رہیں یہاں تک کہ مسلمانوں کا لشکر لوٹ کر واپس آ گیا۔ایران سے ایک جنگ میں خنساء کی بہادری کا نتیجہ اسی طرح ایران سے ایک جنگ کے موقعہ پر بھی یہ خیال کیا جا تا تھا کہ مسلمان پیس ڈالے جائیں گے کیونکہ اس سے پہلے روز مسلمان سخت زک اُٹھا چکے تھے اور اُن کے قریباً بیس ہزار آدمی شہید ہو چکے تھے۔مسلمانوں کا اس قدر جانی نقصان اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔اس وقت ایک عورت تھی جس کے تین چار لڑکے لڑائی میں شریک تھے۔ہمارے ملک کی اگر عورت ہوتی تو اول تو وہ اپنے ایک بچہ کو بھی جنگ میں شامل نہ ہونے دیتی اور اگر بہت ہی مجبور کیا جاتا تو ایک دو کو بھیجتی اور ایک دو اپنے پاس رکھتی اور جسے بھیجتی اُسے بھی یہی نصیحت کرتی کہ بیٹا دیکھنا بڑھیا ماں کا خیال کرنا اور اپنی جان کی فکر رکھنا۔مگر وہ ماں اور بُڑھیا ماں جس کا نام خنساء تھا تین دن کی لڑائی کے بعد جب بظاہر مسلمانوں کے بچنے کی کوئی امید نہ تھی کیونکہ مسلمانوں کو پہلی دفعہ ہاتھیوں سے مقابلہ پڑا تھا اور وہ انہیں پاؤں میں کچلتے جاتے تھے آئی اور بیٹوں سے کہا میں نے تمہارے باپ دادا کی عزت میں کبھی خیانت نہیں کی اور میں امید کرتی ہوں کہ اس خدمت کے صلہ میں جو میں تمہارے آباؤ واجداد کی عزت کی حفاظت کرنے میں کی ہے تم آج میری عزت کی حفاظت کرو گے اور میدان سے پیٹھ دکھا کر نہیں بھا گو گے۔اگر خدا تعالیٰ زندگی دے تو کامیاب ہو کر آؤ وگرنہ پیٹھ دکھا کر نہ آؤ۔اس شیر دل عورت کے لڑکوں نے بھی اس دن ایسی جنگ کی کہ سب نے اُن کی تعریف کی اور اللہ تعالیٰ کو بھی اس کا اخلاص ایسا پسند آیا کہ اُس کے سب بیٹے زندہ واپس آگئے۔