اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 232

232 اور حج کے متعلق سنی سنائی باتیں بیان کیا کرتا تھا۔حجر اسود ایک پتھر ہے جسے ہاتھ لگانے چومنے یا اس کی طرف اشارہ کرنے کا طواف کے وقت حکم ہے یہ حاجی اس سے ناواقف تھا۔ایک دانا آدمی وہاں آ گیا اور اُس نے اس سے استحان کے طور پر چند ایک اہل مکہ کے نام پوچھے وہ کیسے تھے ، پوچھتے پوچھتے کہا کہ حجر اسود صاحب کا کیا حال ہے؟ جواب دیا اچھے ہیں مگر آپ بوڑھے ہو گئے ہیں اور اس سے اس کا جھوٹ کھل گیا۔اس طرح میں اس بات کا علم حاصل کرلوں گا کہ آپ نے وہ کتابیں پڑھی ہیں یا نہیں۔مثلاً یہ کہ کشتی نوح میں حضرت مسیح ناصرتی کا ذکر ہے یا نہیں؟ یا شہادت القرآن میں نماز کا ذکر ہے یا نہیں؟ اتنی بات تو جاہل سے جاہل عورت بھی کر سکتی ہے۔تمھیں چاہئے کہ ان کتابوں کو اچھی طرح پڑھو تا وقت پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ہماری جماعت کی عورتوں کو دوسری عورتوں سے دینی تعلیم میں زیادہ ہونا چاہیئے۔رسول کریم ہونے کے زمانے میں ایک مرد و عورت بھی ان پڑھ نظر نہ آتا تھا۔یہ بہت بڑے اخلاص کا ثبوت ہے حالانکہ عرب میں تعلیم کا بالکل رواج نہ تھا۔اس زمانے میں تعلیم سے متعلق بہت ہی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔عام اخبارات بھی پڑھا کرو سب سے آسان ذریعہ کتاب ہے یا تازہ اخبار کا مطالعہ۔ہفتہ واری یا دوسرے اخبار گومفید ہوتے ہیں مگر اس سے معلومات روزانہ اخبار کی طرح نہیں ہو سکتے۔میرے پاس پانچ روزانہ اخبار، پندرہ سولہ رسالہ آتے ہیں مگر میں اپنے گھر میں دیکھتا ہوں کہ روزانہ اخبار کے مطالعہ کی طرف بہت کم توجہ ہے۔رسالے تو پڑھ لیتی ہیں حالانکہ رسالوں سے زیادہ اخباروں میں معلومات ہوتی ہیں۔علم کی ترقی خبروں سے ہوتی ہے نہ کہ مضمونوں سے۔رائے پڑھنا نبیوقوفی ہے خبریں زیادہ مفید ہوتی ہیں۔میں نے اخبار والوں کی رائے کو کبھی نہیں پڑھا کیونکہ میں خود رائے رکھتا ہوں۔چاہیئے کہ ہم اپنی رائے رکھیں۔خبروں کی طرف خاص توجہ ہو۔دوسروں کی راؤں پر کبھی اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔رائیں تو مختلف بھی ہوا کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام سے کوئی کافر ہو جاتا ہے کوئی مومن۔یعنی کسی کی رائے ہوتی ہے کہ یہ جھوٹ ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ درست ہے اس پر صداقت کھل جاتی ہے۔غرض دونوں رائیں اپنی اپنی طرز کی ہوں گی۔رائے پڑھنے والا رائے سے متاثر ہو گا نہ اصل حقیقت سے۔میں اس کی مثال کے طور غیر مبائعین کے اخبار پیغام صلح کی ایک خبر بتا تا ہوں۔میری خلافت کے شروع ایام میں اس میں ایک خبر شائع ہوئی جس کے عنوان اس قسم کے