اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 205
205 کرنے لگ جائیں گے مگر یہ کہنا کہ اسلام میں پردہ کا حکم ہی نہیں ہے یہ اسلام پر حملہ کرنا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں یہ بات بٹھا دی جائے گی اُن سے پھر توقع نہیں ہو سکتی کہ اصل پردہ کی پابندی کبھی اختیار کر سکیں گے۔موجودہ جو پردہ ہے میں تو اسے سیاسی پردہ کہا کرتا ہوں کیونکہ حالات اس قسم کے ہیں۔انگریزی قانون میں عصمت کی قیمت رو پیر رکھی گئی ہے اس لئے احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو وہاں عورتیں بھی آزادی کے ساتھ چل پھر سکتی ہیں۔عرب میں میں نے دیکھا ہے عورتیں بازاروں میں جاتی اور چیزیں خریدتی ہیں اور وہاں کے لوگوں نے بتایا ہے کہ ہماری خریدی ہوئی چیز عورتوں کو پسند بھی نہیں آتی۔وہ کہتی ہیں مرد کیا جانیں کپڑا کیا پہننا چاہیئے یا اور چیزوں کے متعلق انہیں کیا واقفیت ہو سکتی ہے وہ خود جا کر خرید وفروخت کرتی ہیں۔شیخ عبد الغفور صاحب میں نے مولوی محمد علی صاحب سے پردہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرا دل تو یہی چاہتا ہے کہ عورتیں ننگے منہ پھریں مگر مجھ میں ابھی تک اتنی طاقت نہیں ہے کہ میں اس کو برداشت کر سکوں میں چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ جو اسلامی پر دہ ہے وہ کر سکوں یعنی منہ کھلا رکھاؤں۔مولوی صاحب نے اس کی تائید میں یہ بات بیان کی تھی کہ اگر منہ کھلا نہ رکھا جاتا تو قرآن میں یہ حکم دینے کی کیا ضرورت تھی کہ مرد اور عورتیں اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔حضرت خلیفتہ اسیح آنکھیں اور ان کے ارد گرد کا تھوڑا تھوڑا حصہ نگا رکھا جا سکتا ہے اس لئے آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا۔شیخ عبد الغفور صاحب: کیا عورتیں خود کو داخر یہ نے بازاروں میں جاسکتی ہیں ؟ حضرت خلیفہ اسیح: جاسکتی ہیں اگر کوئی خطرہ نہ ہو۔موجودہ بُرقعہ بہت تکلیف دہ چیز ہے مجھے یہ نا پسند ہے۔مصری طرز کا بُر قعدہ آرام دہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ پردہ کی وجہ سے عورتیں ترقی نہیں کر سکتیں، ان کی صحت خراب رہتی ہے مگر یہ درست نہیں۔وہ عورتیں جو بے پردہ پھرتی ہیں وہ کیا کر رہی ہیں جو پردہ کرنے والی نہیں کر سکتیں۔جس وقت عورتیں اسلام کے احکام کے مطابق پردہ کرتی تھیں اس وقت تو ان کی صحتیں بھی