اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 199

199 ہماری جماعت میں ایسے سامان ہیں کہ عورتیں ترقی کی طرف مائل ہورہی ہیں اور یہ اسی ترقی کا نتیجہ ہے کہ اپنے آپ کو مذہب کا محمود مجھنے لگ گئی ہیں۔اگر یہ رو جاری رہی تو ہماری جماعت کی عورتیں بہت جلد ترقی کرلیں گی مگر ضرورت یہ ہے کہ مرد ان کی مدد کریں۔ہر باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو ترقی کرنے میں مدد دے۔ہر خاوند کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی ترقی کا انتظام کرے۔ہر بھائی کا فرض ہے کہ اپنی بہن کو امداد دے حتی کہ ہر بیٹے کا فرض ہے کہ اپنی ماں کو اوپر اٹھائے۔اگر اس طرز پر ساری جماعت کے لوگ عورتوں کو امداد دینے لگ جائیں تو بہت جلد ترقی ہوسکتی ہے۔(اخبار مصباح قادیان مئورخہ یکم فروری ۱۹۳۸ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا مکتوب خواتین کے پردے کے متعلق مکرمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتی آپ کے خط مورخہ ۲۸-۱-۲۳ کے جواب میں تحریر ہے کہ رائج الوقت پردہ مسلمانوں میں کئی طرح کا ہے۔بعض قوموں اور بعض علاقوں میں ایسا پردہ ہے کہ ڈولیوں کو بھی پردوں میں سے گزارتے ہیں۔اور بعض قوموں اور بعض علاقوں میں اس سے بھی بڑھ کر پردہ یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ عورت ڈولی میں آئے اور پھر اس کا جنازہ ہی نکلے۔یہ پردے صریح ظلم ہیں اور ان کا اثر عورتوں کی صحت ، اخلاق علم اور دین پر بہت ہی گندہ پڑا ہے۔قرآن کریم اور حدیث سے اس قسم کے کسی پردے کا پتہ نہیں چلتا۔قرآن کریم سے صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو باہر نکلنے کی اجازت ہے۔اگر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی تو غض بصر کے حکم کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں خود آپ کی بیویاں۔آپ کی بیٹیاں باہر گلتی تھیں۔جنگوں پر جانا۔کھیتوں وغیرہ پر کام کرنے کے لئے جانا حاجات بشر یہ پورا کرنے کے لئے جانا۔علم سیکھنے۔علم سکھانے کیلئے جانا یہ نہایت ہی کثرت کے ساتھ ثابت ہے اور چھوٹی سے چھوٹی تاریخوں سے بھی اس کے لئے ثبوت مل سکتے ہیں۔ہزاروں واقعات اس قسم کے پائے جاتے ہیں جن میں