اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 192
192 آواز میں قوت اور شوکت ایسی نہ ہو جو پختہ ارادہ رکھنے والے اور کام کرنے والے لوگوں کی آواز میں ہوتی ہے تقریر کی نصف سے زیادہ طاقت آواز میں ہوتی ہے۔اگر آواز اس طرز پر نکلے کہ اس میں شبہ اور تر زرد پایا جائے اور یہ خیال ہو کہ نہ معلوم سننے والے میری بات قبول کریں گے یا نہ کریں گے تو اس کا کچھ اثر نہ ہوگا۔ہماری جماعت میں ایک مولوی صاحب ہوتے تھے جو بڑے عالم تھے مگر اس طریق سے گفتگو کرتے تھے کہ گویا انہیں اپنی بات پر آپ شبہ ہے۔جب وہ کسی کے سامنے کوئی دلیل پیش کرتے اور وہ اس پر اعتراض کرتا تو ڈر جاتے ایک دفعہ یہ واقعہ ہوا کہ انہوں نے ایک شخص سے کہا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات تمہیں آیات سے ثابت ہوتی ہے اُس نے کہا آپ کوئی آیت پیش کریں۔اس پر انہوں نے ایک آیت پڑھی۔اُس شخص نے کہا اس پر تو یہ اعتراض پڑتا ہے کہنے لگے اچھا اسے جانے دو اور سنو۔پھر دوسری آیت سنائی۔اس پر بھی جب اُس نے اعتراض کیا تو تیسری سنادی حتی کہ ساری آیتیں سنا کرختم کر دیں۔آواز میں رُعب ہو تو اس کا خاص اثر ہوتا ہے۔پس ضروری ہے کہ خواتین کو اس طرح بولنے کی عادت ہو کہ اُن کی آواز میں شوکت اور رعب پایا جائے۔لیکن باوجود اس کے کہ میری یہ خواہش رہی ہے اور باوجود اس کے کہ میں نے اس کے لئے کوشش بھی کی ہے میں اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔اب میں یہ کام شاہ صاحب کے سپر دکرتا ہوں اور اُمید رکھتا ہوں کہ وہ اس بارے میں خیال رکھیں گے اگر چہ وہ پہلے خیال نہیں رکھتے تھے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض طالبات ایسی بھی ہیں جنہوں نے کبھی مدرس کے سوال کا جواب بھی نہیں دیا اور مدرس نے بھی مجبور کر کے اُن سے جواب نہیں لیا۔خالی تعلیم کوئی چیز نہیں۔قرآن کریم نے اس کی مثال گدھے سے دی ہے۔جب تک وثوق ، اُمنگ اور عزم نہیں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اور اس کے لئے بلند ، پرشوکت، دلیری اور رُعب والی آواز ہونی چاہیئے۔میں امید کرتا ہوں کہ مدرسہ خواتین کے مدرس اس امر کا خیال رکھیں گے اور جرات سے بولنے، فوراً بولنے اور صحیح جواب دینے کی عادت ڈالیں گے۔چونکہ میں نقائص کے دُور کرنے پر بہت زور دیا کرتا ہوں جسے تختی سمجھا جاتا ہے اس لئے خواتین شاہ صاحب کے آنے پر خوش ہونگی کہ اب میری مفتی جاتی رہے گی۔مگر جسے انہوں نے سختی محسوس کیا وہی دراصل اُن کے لئے بہترین چیز تھی۔بچپن میں ہم نے ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک ہنری با دشاہ ہوا ہے۔لڑکپن میں وو بہت شوخ تھا۔ایک گاؤں میں اُسے پرورش کے لئے بھیجدیا گیا۔وہاں کسی معاملے میں مجسٹریٹ کے سامنے