اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 164
164 اسی طرح ایک اور عیب چوری ہے۔میرے نزدیک چوری جھوٹ سے بھی زیادہ دیانتداری کے ساتھ ماں باپ بچوں کو سکھاتے ہیں اور گویا خصوصیت سے بچوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں۔مثلاً بعض دفعہ ماں باپ ایک چیز بچے کو نہیں دینا چاہتے لیکن اُس کے اصرار کی وجہ سے اسے دے دیتے ہیں اور پھر نظر بچا کر اس سے چھپا لیتے ہیں۔بے شک اُن کا یہ فعل اخلاقا چوری نہیں کہلا سکتا کیونکہ وہ اُن کی اپنی چیز ہے جسے وہ بچہ کونہیں دینا چاہتے اور نظر بچا کر اٹھا لیتے ہیں۔مگر اس سے بچوں کے اندر اس بات کی جس پیدا ہو جاتی ہے کہ ایسا بھی کیا جا سکتا ہے اور پھر وہ بھی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہم بھی چیز چھپائیں۔تو ماں باپ کی اس روش کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ جھوٹ سے بڑھ کر نہایت آسانی سے چوری کی عادت اُن سے سیکھ لیتا ہے۔الغرض پہلا طریق جو بچوں کی تربیت کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ماں باپ ایسا طریق اختیار نہ کریں اور اپنے افعال کو ایسے رنگ میں بچے کے سامنے پیش نہ کریں کہ جس سے بچے کے ذہن میں بد افعال کی طرف توجہ پیدا ہو۔دوسر انقص بچوں کی تربیت میں میں نے دیکھا ہے اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ماں باپ غریب ہوتے ہیں یا امیر۔ان دونوں صورتوں میں بچوں میں دو نقص پیدا ہو جاتے ہیں جو میں آگے بیان کروں گا۔غریبوں کے اندر غربت کی وجہ سے بعض نقائص پیدا ہو جاتے ہیں اور امیروں کی اولاد میں آسودگی اور وسعت مال کی وجہ سے بعض نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔بعض امیروں کو میں نے دیکھا ہے بچوں کو اتنا خرچ دے دیتے ہیں جس سے اُن کی عادات اور اخلاق بگڑ جاتے ہیں اور ان میں آوارگی پیدا ہو جاتی ہے۔کیونکہ بچے کی وقتی ضرورت سے زیادہ جیب خرچ کا اس کے پاس جمع ہونا تمام بد صحبتوں اور بداخلاقیوں کا منبع ہے کیونکہ وہ بچے جن کے اخلاق خراب ہو چکے ہوتے ہیں جب اُن کے ہاتھ میں اپنا کوئی چیز نہیں ہوتا جن سے وہ اپنی آوارگی کی عادات کو پورا کر سکیں تو وہ پھر امیر لڑکوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور اُن سے تعلق پیدا کر کے جہاں وہ اپنی بد عادات کو اُن کے پیسوں کے ذریعہ پورا کرتے ہیں وہاں ان امیر لڑکوں کے اخلاق اور عادات کو بھی بگاڑ دیتے ہیں۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ بچہ کے ہاتھ میں بالکل ہیسہ دیا ہی نہ جائے کیونکہ بچوں کو ان کی ضرورت کے مطابق دینا بھی ضروری ہے تا کہ اس سے ان کے اندر خرید و فرخت کا ملکہ پیدا ہو لیکن اتنا خرچ ان کو نہیں