اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 163

163 ماں باپ بچے سے کوئی چیز چھپا رہے ہوتے ہیں وہ اپنے دل میں خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ اس طرح ہم نے بچے سے اس چیز کو چھپا لیا ورنہ بچے کو اس سے نقصان پہنچتا مگر وہ ایک نقصان سے بچا کر بچہ نو دوسرا نقصان پہنچارہے ہوتے ہیں۔خواہ والدین کے نزدیک حالات کچھ ہی ہوں چونکہ بچے کی نگاہ ان حالات پر نہیں پڑتی اسلئے وہ ماں باپ کی اس کاروائی سے یہ سبق حاصل کرتا ہے کہ کسی چیز کو چھپانے کے لئے اس طرح جھوٹ بھی بولا جاتا ہے۔کیونکہ جس وقت ماں باپ ایک کام کر کے بچے کے سامنے اس سے انکار کر تے ہیں یا ادھر ادھر کی باتیں کر کے اس کو چھپانا چاہتے ہیں تو وہ خوب سمجھ رہا ہوتا ہے۔اور چونکہ بچہ حسّاس اور ذ کی ہوتا ہے اور ماں باپ کا ایک اعلے درجہ کا شاگرد ہوتا ہے اس لئے وہ یہ سبق حاصل کرتا ہے کہ کسی وقت اگر ضرورت پیش آئے اور وہ بھی ایک چیز کو چھپانے کے لئے اپنا طریق بدل ڈالے تو حرج نہیں کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ میرے ماں باپ ایسا ہی کرتے ہیں۔پس پہلی غلطی اولاد کی تربیت میں جو والدین سے سرزد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ گو وہ دل سے چاہتے ہیں کہ بچوں کو نقصان اور عیب سے بچائیں مگر خود پوری پوری احتیاط نہیں کرتے اور اپنا نمونہ اور عمل اُن کے سامنے اچھا پیش نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ خود بچوں کو جھوٹ سکھانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔مثلاً بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ والدین کوئی چیز گھر میں لاتے ہیں بچہ بیمار ہوتا ہے اُس کو کھلانے میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے جب وہ مانگتا ہے تو کہہ دیتے ہیں وہ چیز تو گھر میں آئی ہی نہیں حالانکہ بچے کو اس کی خبر ہو چکی ہوتی ہے۔گروہ اپنے ذہن میں سمجھ لیں کہ ہم نے جھوٹ نہیں بولا کیونکہ بچہ کا فائدہ کر رہے ہیں مگر اس میں کیا شک ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور دور پر دو بچے کو جھوٹ کی تعلیم دے رہے ہوتے ہیں یا پھر بعض دفعہ وہ انکار تو نہیں کرتے مگر یہ کہہ دیتے ہیں ہم نے وہ چیز کھالی ہے حالانکہ بچہ خوب جانتا ہے کہ انہوں نے ابھی کھائی نہیں یا کہہ دیتے کہ وہ چیز تو کوئی اٹھا لے گیا یا ضائع ہو گئی حالانکہ بچہ جانتا ہے کہ نہ کوئی اٹھا لے گیا اور نہ وہ ضائع ہوئی۔وہ چیز واقع میں آئی اور والدین نے اُس سے چھپ کر کھائی جسے اس نے چلمن کے پیچھے سے دیکھا ہوتا ہے۔اس طرح وہ ماں باپ سے جھوٹ بولنے کا سبق سیکھتا ہے اور اس کے دل میں اس عیب کی کوئی اہمیت نہیں رہتی اور دو جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خواہ زبانی میرے ماں باپ مجھے منع کرتے ہیں مگر موقع پر وہ خود بھی جھوٹ بول لیتے ہیں اس لئے یہ کوئی بری بات نہیں۔