اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 10
10 ہی زندہ اُٹھائے جائیں گے؟ یہ بات ہر ایک عقل کی عورت سمجھ سکتی ہے کہ خدا تعالی نے جس بات کو پہلے رکھا وہی پہلے ہونی چاہیئے اور جس کو بعد میں وہ بعد میں ہوگی۔اگر ایسا نہ ہو تو خدا پر یہ الزام آتا ہے کہ ( نعوذ باللہ ) اس کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ پہلے ہونے والی بات کو پہلے بیان کرے اور بعد میں ہونے والی کو بعد میں لیکن مولوی لوگ خدا کی عربی کی اصلاح کرتے ہیں کہ اصل میں اس طرح ہے کہ رَافِعُكَ پہلے ہے اور مُتَوَفِّيْكَ بعد میں ہے۔یہ خدا تعالیٰ پر بہت بڑا الزام ہے اور سخت سزا کا مستحق ہے۔پس یہ کتنی آسان بات ہے۔جب یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں تو یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ جو عیسے آنے والے ہیں وہ اس امت سے آئیں گے اور وہ حضرت میرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہیں جنہوں نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے۔حضرت مسیح موعود کی صداقت کا آسان ثبوت اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا دعوی سچا ہے یا نہیں۔اس کے لئے بھی آسان طریق ہے۔مثلا ایک لڑکا تمہیں آکر کہے کہ میں تمہارا بیٹا ہوں۔لیکن اگر وہ واقعہ میں تمہارا بیانہ ہوتو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ تم اُسے اس لئے کپڑے بنوا دو، کپڑے سلوا دو اور خاطر مدارات کرو کہ وہ تمہارا بیٹا بن گیا ہے تم تو اسے فورا گھر سے نکلوا دو گی۔بعض لوگ جو اس طرح کرتے ہیں انہیں سزا ملتی ہے۔پھر اسی طرح اگر کوئی جھونا تحصیلدار یا جھوٹا جنگی کا افسر یا جھوٹا پولیس کا سپاہی بن جائے تو گورنمنٹ پکڑ کر اُسے سزا دیتی ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کو ہر ایک سمجھتا ہے اسی طرح دیکھنا چاہیے کہ ایک شخص ہے وہ دعوی کرتا ہے کہ خدا تعالی نے مجھے بھیجا ہے میں دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں، میں مصلح ہوں، میں مسیح ہوں، میں مہدی ہوں اور ایسا شخص تمہیں سال تک زندہ رہتا ہے، چار لاکھ کی جماعت اُس کے ساتھ ہو جاتی ہے، اُسے ہر میدان میں فتح حاصل ہوتی ہے، اُس کے دشمن اور مخالف ذلیل اور رسوا ہوتے ہیں اور وہ دن بدن ترقی کرتا اور عزت حاصل کرتا جاتا ہے، اب بتاؤ اُس کو سچا سمجھنے میں کون سے علم کی ضرورت ہے؟ ہر ایک انسان آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا تو خدا تعالیٰ ضرور اُس کو سزا دیتا۔ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ (نعوذ باللہ ) اب خدا بوڑھا ہو گیا ہے اور اُس کی طاقتیں زائل ہو گئی ہیں اس لئے کسی کو سر انہیں دے سکتا لیکن ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔تو یہ ایک ایسی صاف اور آسان بات ہے جس کو جاہل سے جاہل عورت بھی سمجھ سکتی ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنا ایک وجود لے کر آئے تھے مگر باوجود