اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 162
162 بچے کا ذہن خدا نے ایسا بنایا ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہوشیار ہوتا ہے کیونکہ وہ ترقی کر رہا ہوتا ہے اور اپنا علم بڑھا رہا ہوتا ہے اس لئے وہ ہر بات کی زیادہ چھان بین اور جستجو کرنا ہے اور بات کو فورا تاڑ جاتا ہے۔ماں باپ تو یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم اسکی خیر خواہی کر رہے ہیں کہ اُس سے اس بات کو چھپارہے ہیں اگر نہ چھپائیں تو اس کو نقصان ہو گا لیکن اُن کی اس روش سے وہ یہ سبق حاصل کر رہا ہوتا ہے کہ ایک کام کر کے پھر اس سے انکار بھی کیا جا سکتا ہے یا اس کو ادھر اُدھر کی باتوں سے چھپایا بھی جاسکتا ہے کیونکہ وہ خوب سمجھتا ہے کہ ماں باپ نے ایسا کام کیا تو ضرور ہے مگر اب وہ اُس سے چھپا رہے ہیں۔بچوں کے متعلق یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ کسی بات کو تاڑ نہیں سکتے۔یا کوئی بات اُن کے ذہن سے اتاری جاسکتی ہے۔وہ جس طرح جھٹ کسی بات کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اسی طرح ہر بات جو اُن کے سامنے کی جائے اُسے سمجھ جاتے ہیں۔میں نے ایک تماشا گر کی کتاب پڑھی ہے جو کہ بہت بڑے تماشاگروں میں سے ہے وہ خود تماشے کرتا اور بڑے بڑے تماشوں کا موجد ہے وہ اپنی کتاب میں اپنے تجربہ کی بناء پر لکھتا ہے میں نے اپنے کام میں سب سے زیادہ خطر ناک بچوں کو پایا ہے۔بڑے بڑے پروفیسروں ،سائنسدانوں اور عقلمندوں کے سامنے میں نے تماشے کئے مگر مجھے کبھی ذرا گھبراہٹ نہیں پیدا ہوئی لیکن میں بچوں کے سامنے تماشہ کرنے سے ہمیشہ گھبراتا ہوں کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوا کہ بچوں نے میری چوری پکڑ لی ہے اور اس وجہ سے مجھے اپنے تماشے میں ناکام ہونا پڑا ہے۔اس کی وجہ وہ یہ لکھتا ہے کہ بچہ چونکہ خالی الذہن ہوتا ہے اُس نے اپنے دل میں کوئی رائے نہیں قائم کی ہوتی۔وہ اس عمر میں سیکھ رہا ہوتا ہے اور اپنے علم کو کامل کر رہا ہوتا ہے اس لئے اُس کی نگاہ معمولی معمولی باتوں پر بھی پڑتی ہے جس سے راز افشاء ہو جاتا ہے۔لیکن بڑے آدمی جو تماشہ کو دیکھتے ہیں یہ مجھتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہم سیکھ چکے ہیں ان کی طرف توجہ کی ضرورت نہیں اس لئے اُن کا ذہن بڑی بڑی باتوں کی طرف جاتا ہے اور ہمارا کھیل اُن کے سامنے بہت کامیاب ہوتا ہے۔بچے نے چونکہ یہ رائے نہیں قائم کی ہوتی وہ بہت سادگی سے ہماری معمولی معمولی حرکات پر غور کرتا ہے اور اکثر ایسا ہوا ہے کہ بچوں نے ہمارا خیال خراب کر دیا۔پھر وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ سب سے بڑا اور ہوشیار اور تجربہ کار تماشہ کرنے والا میں اس کو قرار دوں گا جس کا بھید بچے دریافت نہ کر سکیں۔غرض بچوں کے ذہن نہایت ہی حساس ہوتے ہیں اور اُن سے کوئی چیز چھپانی بہت مشکل ہوتی ہے۔جن حالات اور جن وجوہات کی بناء پر