اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 150
150 شادی سے مطمئن نہیں اور انہیں اس سے بجائے آسائش کے رنج پہنچ رہا ہے میرے پاس چونکہ اس قسم کی شکائتیں آتی رہتی ہیں اس لئے مجھے اس بارے میں کافی علم ہے۔انہیں جب سمجھایا جائے ، گزارہ کرنے کی نصیحت کی جائے تو کہتی ہیں ہم کیا کریں اس مصیبت کی زندگی کی وجہ سے ہمارے اندر سے غم وغصہ کی آگ نکل رہی ہے۔ہمارے ماں باپ اندھے تھے کہ انہوں نے ہمیں ایسی جگہ دھکیل دیا جہاں ہمارے لئے سوائے رنج اور مصیبت کے اور کچھ نہیں۔لڑکیوں کی ماں باپ سے محبت اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان لڑکیوں کو ماں باپ سے محبت نہیں ہوتی یا دو ماں باپ کی خدمت اور ان سے سلوک نہیں کرنا چاہتیں بلکہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کی مصیبت میں سمجھ کر اور اُسے نا قابل برداشت پا کر اس طرح کہتی ہیں ورنہ وہی ماں باپ جن کے متعلق ایک لڑکی یہ کہہ رہی ہوتی ہے اگر دریا میں بہہ رہے ہوں تو وہ لڑکی اُن کو بچانے کے لئے بلا تامل پانی میں کود پڑے گی اور یہ نہ دیکھے گی کہ وہ انہیں بچا بھی سکتی ہے یا نہیں۔اس جوش محبت میں جو اُسے والدین سے ہوگا اُسے یہ بھی محسوس نہ ہو گا کہ خود اس کی اپنی جان بھی تو اس کوشش میں خطرہ میں پڑ جائے گی۔لڑکیوں کا نیلام پس اگر اس بات کی اجازت دی جائے کہ ماں باپ مہر کا روپیہ لے لیں تو ہزار ہا ایسی لڑکیاں ہوں گی جو ایسی نامناسب جگہ بیاہی جائیں گی جہاں سے اُن کے والدین کوتو رو پسیل جائے گا لیکن وہ ڈکھ کی زندگی بسر کریں گی۔اب بھی بہت سی ایسی مثالیں مل سکتی ہیں جو اس قسم کی اندھادھند شادیوں کے متعلق ہیں اور جولڑکی کو بیاہنے کے لئے نہیں بلکہ بیچنے کے مترادف ہیں۔بہت لوگ رو پے کالالچ کرتے ہیں اور جہاں سے اُن کو زیادہ روپیہ ملتا ہے وہاں وہ بغیر دیکھے بھالے لڑکی کا بیاہ کر دیتے ہیں۔میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے ماں باپ دیکھے ہیں جو اپنی لڑکیوں کو نیلام کرتے ہیں اور کہتے ہیں جو سب سے زیادہ رو پیدے وہی لے جائے۔ایسے ماں باپ صرف روپیہ کو دیکھتے ہیں جس سے زیادہ روپیہ ملے اس کے ساتھ اپنی لڑکی کو بیاہ دیتے ہیں خواہ اُن میں کسی قسم کا جوڑ اور مناسبت ہو یا نہ ہو اور بعض ماں باپ تو اس قدر ظلم کرتے ہیں کہ عمر کالحاظ بھی نہیں