اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 135

135 دوسروں کو پتہ لگے ؟ا کہ اس طرح مدد کرنی چاہیئے۔سکاؤٹ بوائے کو اسی طرح سکھایا جاتا ہے کہ بچوں کے گھر بنا کر اور ان میں ضروری اشیاء رکھ کر آگ لگاتے ہیں اور پھر آگ کو بجھانا اور چیزوں کو بچانا سکھایا جاتا ہے۔تو سبقاً سبقاً بچوں کو یہ باتیں سکھانی چاہئیں اور گروپ میں ہی سکھائی جاسکتی ہیں۔الگ الگ ایسا انتظام نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ڈوبتے کو بچانا سکھانے کے لئے بھی گروپ ضروری ہے اور بچوں کو مشق کرانی چاہئے۔اس میں دوسرے لوگ بھی اگر دلچسپی لیں تو زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔مگر ہمارے ملک کے اخلاق ایسے ہیں کہ اگر کوئی بڑی عمر کا آدمی کھیل میں شامل ہو تو حیرت اور تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے حالانکہ رسول کریم نے سے متعلق آتا ہے کہ آپ شامل ہو جاتے تھے۔ماں باپ کو بھی چاہیئے کہ بچوں کے اس قسم کے کاموں میں کبھی کبھی شامل ہو جایا کریں۔پھر غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنا سکھانا چاہیئے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ جیبیں بھری ہوں بلکہ یہ ہے کہ مثلا اگر کوئی تکلیف میں ہے، اندھی ہے اور بچہ اُس کے ساتھ ہے جسے دو اٹھا نہیں سکتی تو لڑکا اٹھالے۔اگر کوئی گر جاتا ہے تو اُسے اٹھائے۔اسی قسم کے اور بیسیوں کام ہیں۔چونکہ اب وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے باقی باتیں پھر کسی وقت بیان کر دی جائیں گی۔(الفضل ۱۰۔جولائی ۱۹۲۳ ص ۶ تا ۱۰) تقریر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( جو حضور نے جلسہ سالانہ ۱۹۳۳ کے موقع پر ۲۸۔دسمبر کو مستورات میں فرمائی ) حضور نے تشہد اور تعوذ کے بعد سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی اور پھر فرمایا:۔میں سب سے پیسے اللہ تعالے کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری ہدایت کے لئے مسیح موعود کو بھیجا اور ہمیں اس کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ذَالِكَ فَضُلُ اللهِ يَو تِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ العظیم پھر میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری جماعت کے دلوں میں اس بات کا جوش اور تڑپ رکھدی ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں۔اس زمانہ میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اور جس حالت میں وہ مبتلا ہورہے ہیں اس کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ آپ کے طفیل عورتوں تک میں بھی یہ خواہش موجود ہے کہ اولاد ایسی ہو جو خادم دین ہو۔وہ عورتیں جو پہلے اپنے وقت کو لڑائی جھگڑوں یا غیبت میں گنواتی تھیں اب حضرت مسیح موعود علیہ السلوۃ والسلام کو قبول کر کے دین کی خدمت