اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 115
115 اجمال ہے۔اس کے مضامین کا اور متن ہے قرآن مجید کا اس کے الله تعالیٰ نے کس حکمت سے کام لیا ہے۔جہاں دُعا سکھائی ہے اور اس میں جو مضمون ترقیات کے متعلق ہے اس کو بیان میں اس طرح ڈھالا ہے کہ اس میں عورت و مرد کا اشتراک رکھا ہے۔گو عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ جب قوم کو مخاطب کیا جائے تو اس میں مذکر کے صیغے استعمال ہوتے ہیں جن میں عورتیں شامل ہی ایسے رکھے ہیں لیکن سورۂ فاتحہ میں ہیں الفاظ جاتی سمجھی کہ جس میں مرد و عورت دونوں مساوی ہیں اور دونوں کا ان میں مثلا - اشتراك ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنَ رکھے ہیں جن کو جس طرح مرد بول سکتے ہیں اسی طرح ان کو عور تیں بھی استعمال کر سکتی ہیں اور اس میں دونوں کی مساوت رکھی۔اس کی ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ اس میں مرد و عورت وزن کے محاورہ کے لحاظ سے بھی شامل ہیں۔یعنی اکیلے مرد بھی وہی الفاظ بولیں گے اور اکیلی عورتیں بھی وہی الفاظ کہیں گی اور جس طرح بعض احکام مردوں کے لئے خاص ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے بھی خاص احکام ہیں۔خاص احکام سے یہ مراد نہیں کہ خاص مرد ہی اللہ تعالیٰ کے مخاطب ہیں بلکہ اس سے یہ مطلب ہے کہ اگر مردوں کے لئے بعض احکام خاص ہیں تو عورتوں کے لئے بھی بعض احکام خاص ہیں۔اور ایک وہ احکام میں جن میں مرد و عورت دونوں مساوی ہیں۔مثلاً خطبہ جمعہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے ہے اسی طرح خطبہ عیدین بھی دونوں کے لئے ضروری ہے۔یوں تو مرد الگ ہوتے ہیں اور عورتیں الگ ہوتی ہیں۔یا وہ پردہ کے پیچھے ہوتی ہیں یا قتات کے پیچھے بیٹھتی ہیں۔جس طرح عورتیں برقع پہن کر درس سن لیتی ہیں اسی طرح وہ جمعہ میں قنات یا پردہ کے پیچھے الگ بیٹھ کر خطبہ سنتی ہیں۔چونکہ مردی خطیب ہوتا ہے اس لئے مرد سامنے ہوتے ہیں اور عورتیں پردو میں الگ ہوتی ہیں ورنہ خطیب کے مخاطب تو دونوں ہی ہیں۔عورتوں کے الگ بیٹھنے یا پردہ کے پیچھے بیٹھنے کے یہ معنے نہیں کہ وہ خطبہ میں مخاطب نہیں ہوتیں بلکہ جس طرح مرد اس کے مخاطب ہوتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی مخاطب ہوتی ہیں۔یہ خطبہ صرف مردوں کے لئے ہی نہیں ہوتا بلکہ عورتوں کے لئے بھی ہوتا ہے۔پس جو کچھ میں اب کہنے لگا ہوں وہ بلحاظ وقت اور مقام کے بالکل مناسب حال ہے۔وہ کیا بات ہے وہ یہ ہے کہ میں نے سوچنے اور غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی میں جو مسجد بننے والی بے وہ عورتوں کے چندہ