اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 74
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 74 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب آنحضرت عمے نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو حضرت زبیر کو بلا کر ارشاد کیا کہ حمزہ کی لاش نہ دیکھنے پائیں۔حضرت زبیر نے آنحضرت ﷺ کا پیغام سنایا تو بولیں کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی لاش کے ساتھ جو ماجرہ ہوا وہ تو میں سن چکی ہوں لیکن خدا کی راہ میں یہ تو کوئی بڑی قربانی نہیں ہے یہ نہ فکر کرو کہ میرا دل دکھے گا اس کو دیکھ کر اور میں برداشت نہیں کر سکوں گی۔آنحضرت ﷺ نے پھر ان کو لاش دیکھنے کی اجازت دیدی اور لاش کے پاس گئیں بھائی کے ٹکڑے الله بکھرے ہوئے دیکھے لیکن انا لله و انا اليه رَاجِعُونَ کہ کر چپ ہوگئیں اور مغفرت کی دعا کی۔پھر بنی دینار کی انصاری خاتون کا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار محبت کا اظہار ہے۔صلى الله اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ یہ احد سے واپسی پر بنو دینار کی الله ایسی عورت کے پاس سے گزرے جس کا خاوند، بھائی اور والد جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے تھے اور شہید ہو گئے تھے۔جب صحابہ نے ان کی وفات کی اطلاع دی تو کہنے لگیں کہ مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہ علیہ کا کیا حال ہے۔انہوں نے کہا: اے ام فلاں وہ خیر و عافیت سے ہیں۔الحمد للہ وہ اس حال میں ہیں جو تو سننا پسند کرتی ہے۔وہ کہنے لگی مجھے انہیں دکھا دو تا کہ میں خود دیکھ لوں۔راوی کہتا ہے کہ اس پر اس نے اشارہ کیا آنحضرت ملی کہ فلاں جگہ ہیں۔چنانچہ جب آنحضرت ﷺ کو اس نے دیکھ لیا تو کہنے لگی کل مصيبة بعد۔۔۔کہ اگر آپ بخیریت ہیں تو پھر ہر مصیبت معمولی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس تاریخ کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے میدان سے واپس تشریف لائے تو مدینہ کی عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کے لئے آئے۔رسول کریم ﷺ کی اونٹنی کی باگ ایک پرانے اور بہادر انصاری صحابی سعد بن معاذ نے پکڑی ہوئی تھی اور فخر سے آگے آگے چل رہے تھے۔شہر کے پاس اُنہیں اپنی بڑھیا ماں نظر آئی جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی اور احد کی جنگ میں اُن کا ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا تو وہ بھی عورتوں کے آگے کھڑی تھیں اور دیکھ رہی تھی یہ معلوم کرنے کے لئے کہ رسول کریم ﷺ کہاں ہیں۔تو ان کے بیٹے سعد بن معاذ نے سمجھا کہ میری ماں کو اپنے بیٹے کا بھی غم ہوگا تو آنحضرت ﷺ کی طرف دیکھ کر انہوں نے کہا کہ ان کی تسلی کے لئے کچھ الفاظ کہہ دیں، ان کو حوصلہ دلائیں اور تسلی دیں۔آپ نے فرمایا کہ بی بی بڑا افسوس ہے کہ تیرا لڑکا اس جنگ میں شہید ہو گیا ہے۔بڑھیا کی نظر کمزور تھی اس