اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 86 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 86

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 86 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب کے زمانے میں جب جلسے ہوتے تھے تو چندہ جلسہ سالانہ کا با قاعدہ انتظام نہیں تھا۔تو بعض موقعوں پہ آپ اپنے ذاتی خرچ کیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ اسی طرح پیسوں کی ضرورت پڑی۔مہمانوں کے لئے کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی اور پیسے بھی ختم ہو گئے تھے۔ان کے والد جو تھے حضرت میر ناصر نواب صاحب ، وہ (انتظام) کیا کرتے تھے۔تو انہوں نے آکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا۔تو انہوں نے کہا جاؤ بی بی صاحبہ کے پاس جاؤ ، حضرت اماں جان کے پاس جاؤ ، اُن سے کہو کہ اپنے کڑے دیدیں، مہمانوں کے لئے ضرورت ہے۔انہوں نے اپنے سونے کے کڑے فوراً اُتارے اور مہمانوں کے جلسے کے انتظام کے لئے دیدیئے۔شہداء کی بیویوں نے بڑے صبر کے نمونے دکھائے ہیں:۔پھر جو ہمارے شہید ہوئے احمدیوں میں اُن میں شہداء کی بیویوں نے بڑے صبر کے نمونے دکھائے۔ڈاکٹر نیم بابر صاحب جو اسلام آباد میں شہید ہوئے ، اُن کی بیوی نے بتایا کہ میں ساری رات بچوں کے کمرے میں اُن کے سرہانے بیٹھی رہی۔اس وقت مجھے یہ احساس تھا کہ گھر میں غیر معمولی کیفیت دیکھ کر ، روتی آنکھوں اور چیخوں سے وہ خوفزدہ نہ ہو جائیں۔صبح معمول کے مطابق ، رات کو اُن کو کسی نے آکے شہید کر دیا تھا خاوند کو۔تو خاوند کی لاش پڑی ہے خاموشی سے بیٹھی رہیں، دوسرے لوگ آگئے۔بہر حال اطلاع مل گئی تھی۔شور شرابا تو گھر میں ہوا ہوگا کہ بچوں کو یہ شور شرابا سن کہ کہیں پریشان نہ ہو جائیں۔ان کے سرہانے بیٹھی رہیں ساری رات۔صبح اپنے وقت کے مطابق بچے اٹھے تو بیٹے نے خلاف معمول جب مجھے سرہانے بیٹھے دیکھا تو پوچھا می پاپا کہاں ہیں تو میں نے بہت آہستہ سے کہا، بچوں کو سمجھایا کہ رات کو آپ کے ابا کو اللہ میاں نے اپنے پاس بلا لیا ہے کیونکہ ان کی عمر ختم ہو گئی تھی۔اور سب نے اللہ میاں کے پاس جانا ہے۔پھر میں نے انہیں بتایا کہ تمہارے اباً اللہ میاں کی راہ میں قربان ہو گئے ہیں، شہید ہو گئے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئے ہیں اس شہادت کی وجہ سے۔تو یہ آپ کی خوش قسمتی ہے، گھبرانے والی بات نہیں ہے۔دونوں بچے پہلے تو رو پڑے پھر آنسو پونچھ کر مسکرانے لگے اور گھر میں آئے ہوئے لوگوں سے ملنے گئے۔اسی طرح شمیم اختر صاحبہ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ اُن کے شوہر مقبول احمد صاحب کو 1967ء