اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 85
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 85 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب امریکہ میں پرانے زمانے میں بڑی غربت تھی۔جو احمدی ہوئے اکثر پیدائشی امریکن جو تھے، وہ بڑے غریب تھے۔ایک احمدی خاتون تھیں وہ جماعت کی خدمت کس طرح کر کے اپنی تسکین کیا کرتی تھیں، انہوں نے ایک نیا طریقہ نکالا تھا۔کلیولینڈ اوہایو سے تعلق رکھتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم اتنے غریب تھے اور میرا سارا خاندان اتنا شکستہ حال تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے بیان کیا تھا واقعہ کہ کچھ بھی ہم خدمت کرنے کے لائق نہ تھے۔میں اپنے جذبے کو تسکین دینے کے لئے یہ کیا کرتی تھی کہ جمعہ کے روز علی الصبح مشن ہاؤس جاتی، اپنے ساتھ پانی کی بالٹی اور گھر میں بنائے ہوئے صابن کا ٹکڑا لے جاتی تھی۔یعنی اس زمانے میں امریکہ جیسے ملک میں صابن بھی میسر نہیں تھا۔صابن بھی گھر میں خود بناتی تھیں۔افریقہ کے بہت سے غریب ممالک اور بہت سارے دوسری جگہوں کے بھی۔ہمارے ملکوں میں بھی ، دیہاتوں میں صابن خود بنایا جاتا ہے کپڑے دھونے کے لئے۔بہر حال کہتی ہیں کہ میں صابن خود بناتی تھی اور وہ لے کر جاتی تھی مسجد میں اور پھر مسجد کو دھوتی تھی ، اس سے پالش کرتی تھی اور جمعے سے پہلے واپس آجایا کرتی تھی کہ کسی کو پتہ نہ لگے کہ یہ کام کس نے کیا ہے یعنی که ایسی قربانی تھی ساتھ یہ بھی تھا کہ اظہار بھی نہ ہو کہ کون مسجد کی صفائی کر کے جاتا ہے۔حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ حضرت اماں جان جنہیں کہتے ہیں ، ان کی ایک صبر کی اعلیٰ مثال، ایک عجیب مثال ہے جب ان کے بیٹے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب جو بڑے لاڈلے تھے اُن کے۔وہ بیمار ہوئے۔بہت علاج کروایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہر وقت ان کی فکر میں رہتے تھے، حضرت اماں جان بھی دعاؤں اور علاج میں مشغول رہتی تھیں۔بہر حال تقدیر الہی سے جب وہ فوت ہو گئے تو حضرت اماں جان نے کہا کہ انــالـلـه وانا اليه راجعون اور پھر کہا کہ میں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کے اس عظیم الشان صبر کو دیکھا تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ اطلاع دی کہ خدا خوش ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ الہام حضرت ام المومنین کو سنایا کہ تمہارے اس فعل پر ، راضی بر رضا ہونے پر ، اللہ تعالیٰ نے یہ الہام کیا ہے کہ میں خوش ہو گیا تو حضرت اماں جان نے کہا کہ مجھے اس الہام سے اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ دو ہزار مبارک احمد بھی مرجاتا تو میں پرواہ نہ کرتی۔مالی قربانیوں میں بہت بڑھی ہوئی تھیں۔ہر تحریک میں حصہ لیتی تھیں۔حضرت مسیح موعود