اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 61

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 61 فرمودہ 13اکتوبر 2006 بمقام بیت الفتوح بلندن۔برطانیہ رب مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریت عطا کر یقینا تو بہت دعا سننے والا ہے۔ایسی پاک نسل عطا کر جو تیری رضا کی راہوں پر چلنے والی ہو۔اور جب انسان یہ دعا کر رہا ہو تو خود اپنی حالت پر بھی غور کر رہا ہوتا ہے کہ کیا میں ان سارے حکموں پر عمل کر رہا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیئے ہیں؟ پھر ایک جگہ حضرت ابراہیم کی اس دعا کا ذکر ہے، فرمایا رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِيْنَ (سورۃ النفقت: 101)اے میرے رب مجھے صالحین میں سے وارث عطا کر، مجھے نیک صالح اولا دعطا فرما۔پس جو والدین اولاد کے خواہش مند ہوں انہیں نیک اولاد کی خواہش کرنی چاہئے اور پھر اولاد کی تربیت بھی اس کے مطابق ہو اور جیسا کہ میں نے کہا اولاد کی تربیت کے لئے سب سے پہلے اپنے نمونے قائم کرنے چاہئیں۔واقفین نو بچوں کے جو والدین ہیں انہیں خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔حضرت ابراہیم نے جو دعا کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے جس انعام سے نوازا تھا اس نے تو قربانی کا بھی اعلیٰ معیار قائم کر دیا۔پس جو والدین اپنے بچوں کو وقف نو میں شامل کرتے ہیں انہیں خصوصاً اور دوسروں کو بھی، عام طور پر ہر احمدی کو دعا کرتے رہنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرتے ہوئے انہیں ایسی اولاد سے نوازے جو حقیقت میں دین کی خادم بننے والی ہو، جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی را ہوں کو تلاش کرنے والی ہواور صالحین میں شمار ہو۔اولاد کی اصلاح کے ضمن میں ایک اور قرآنی دعا اَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي (سورة لا تقاف 18) کم الاحقاف میرے بچوں کی بھی اصلاح فرما، کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے ان کی وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب و شدائد آ جایا کرتے ہیں بڑی سخت مصیبتیں آ جایا کرتی ہیں تو اولاد کے لئے بہت دعا کرنی چاہئے۔فرمایا ” تو ان کی اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ کرنی چاہئے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔“ (الحکم جلد 12نمبر16مورخه 2/ مارچ1908ء صفحه6،ملفوظات جلد پنجم صفحه456جدید ایڈیشن)