اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 53

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 53 فرمودہ 9 جون 2006 بمقام مئی مارکیٹ۔منہائیم (جرمنی) ہیں۔ان تنظیموں میں ابتداء سے حصہ لینے والے کو علم ہے کہ ان کی حدود کیا ہیں، اس کی ذیلی تنظیموں کی حدود کیا ہیں ، جماعتی نظام کی اہمیت کیا ہے اور خلیفہ وقت کی اطاعت کس طرح کرنی ہے۔لیکن بعض دفعہ دنیا داری کی وجہ سے اپنی اہمیت اور انا کی وجہ سے بعض لوگوں کی آنکھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے اور باوجود اس اہمیت کا علم ہونے کے کہ اطاعت میں کتنی برکت ہے بعض ایسی باتیں کر جاتے ہیں جس سے اگر جماعتی نظام متاثر نہ بھی ہوتو پھر بھی بعض کمزور ایمان والوں یا نئے آنے والوں کے لئے ٹھوکر کا باعث بن جاتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی کمیشن کسی بارے میں قائم ہوا ہے کہ تحقیق کر کے بتائیں ، بعض لوگوں کے بعض معاملات کی رپورٹ دیں یا بعض دفعہ کوئی معاملہ خلیفہ وقت کی طرف سے بھجوایا جاتا ہے کہ اس بارے میں جائزہ اور رپورٹ دیں تو تحقیق کرنے کے بعد یا جائزہ لینے کے بعد جور پورٹ بھجوائی جاتی ہے اگر خلیفہ وقت اس کے مطابق کوئی فیصلہ نہ کرے تو اور کچھ نہیں کہہ سکتے تو جماعت میں یا کم از کم اس طبقے میں یہ بات کہہ کر بے چینی پیدا کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو یوں لکھا تھا پتہ نہیں نیشنل امیر نے یا مرکزی عاملہ نے رپورٹ بدل کر بھیج دی ہے یا خلیفہ وقت نے اس کے الٹ فیصلہ دیا ہے۔بہر حال ہم نے تو یہ رپورٹ نہیں دی تھی۔تو یہ ایسی بات ہے جو یقیناً جماعت میں فتنے کا باعث بن سکتی ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہئے۔اگر کسی سطح پر آپ لوگوں کو خدمت کا موقع دیا گیا ہے تو اس کو فضل الہی سمجھیں اور اُن حدود کے اندر ہی رہیں جو مقرر کی گئی ہیں اور اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں۔بعض لوگ بیوقوفی اور کم علمی کی وجہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں، بعض اپنی انا کی وجہ سے۔اور مختلف ملکوں میں ایسے معاملات اکا دکا اٹھتے رہتے ہیں اور توجہ دلانے پر پھر احساس بھی ہو جاتا ہے اور معافی بھی مانگتے ہیں۔بعض عہدیدارا اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں لیکن آج میں خطبے میں اس بات کا ذکر اس لئے بھی کر رہا ہوں کہ یہ سب کو بتادوں کہ جو فتنے کیلئے یہ باتیں کرتے ہیں ان کے علم میں آجائے کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کافی mature ہو چکی ہے۔اپنی بلوغت کو پہنچ چکی ہے اور ایسے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے خدمت کا موقع دے دیا ہے وہ بھی اپنی نظر اور سوچ کو اپنی ذات کے محور سے نکالیں۔پھر بعض لوگ اپنی رائے اور عقل