اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 147
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 147 خطبہ جمعہ فرموده 16 نومبر 2007 ایک سال تک گھر میں رہنے دو، دوسرے بیوہ کو حق دیا ہے کہ اگر وہ شادی کر کے یا کسی وجہ سے ایک سال سے پہلے بھی گھر چھوڑ دیتی ہے تو یہ اس کا معروف فیصلہ ہے۔پھر عزیزوں رشتہ داروں کو اس میں روک نہیں بننا چاہئے کہ اب یہاں ضرور ایک سال رہو۔بعض تنگ کرنے کے لئے بھی کہہ دیتے ہیں۔بعض دفعہ رشتہ دار چاہتے ہیں کہ بیوہ شادی نہ کرے حالانکہ بیوہ کی شادی بھی ایک مستحسن عمل ہے۔تو ایسے روک ڈالنے والوں کے جواب میں حضرت خلیفہ المسح الاول نے وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيْم کی بڑی لطیف تشریح فرمائی ہے۔فرمایا کہ بعض لوگ بیوہ کی شادی کے بارہ میں کہتے ہیں کہ یہ ہماری عزت کے خلاف ہے۔خاص طور پر ہمارے پاکستانی اور ہندوستانی معاشرے میں، بعض خاندانوں میں بہت زیادہ شدت پسندی ہے کہ یہ ہماری عزت کے خلاف ہے کہ بیوہ شادی کرے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا نام عزیز ہے اور میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں۔میں حکم دیتا ہوں کہ شادی کرے کیونکہ حکمت کے تقاضے کے تحت یہ حکم ہے اس لئے وہ سب جو میرے حکم سے ٹکرانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو یا درکھنا چاہئے کہ میں عزیز اور غالب ہوں ،سب عزتیں میری طرف منسوب ہیں اس لئے میرے حکموں کی پابندی کرو اور جھوٹی عزتیں تلاش نہ کرو تا کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی صفات سے فیض پانے والے ہو۔پھر تیسری آیت عورتوں کے حقوق کے بارہ میں ہے۔اور جو مطلقہ عورت ہے اس کے حق کے بارہ میں ہے کہ اگر طلاق ہو جاتی ہے تو عورت کے لئے مقررہ عدت ہے جو متعین کردہ ہے اس کے بعد وہ آزاد ہے کہ شادی کرے۔دوسری جگہ حکم ہے کہ تم ان کی شادی میں روک نہ بنو۔بلکہ شادی میں مدد کرو اور اب وہ خود ہوش والی ہے اس لئے اگر وہ شادی کا فیصلہ کرے تو ٹھیک ہے۔لیکن عورتوں کو حکم ہے کہ طلاق کے بعد اگر تمہیں پتہ چلے کہ حاملہ ہو تو اپنے خاوند کو بتا دو، چھپانانہیں چاہئے۔اگر شادی کے بعد کسی وجہ سے نہیں بنی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انتقام لینے لگ جاؤ اور جو اس بچے کا باپ ہے اس کو نہ بتاؤ کہ تمہارا بچہ پیدا ہونے والا ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ تمہارے بتانے سے ہوسکتا ہے کہ اس کا دل نرم ہو جائے اور وہ رجوع کرے اور گھر آباد ہو جائے۔فرمایا کہ خاوند زیادہ حق دار ہے کہ انہیں واپس لے لے اور گھر آباد ہو جائیں اور رنجشیں دور ہو جائیں۔دوسرے قریبیوں اور رشتہ داروں کو بھی حکم ہے کہ اس میں وہ روک نہ بنیں۔بعض دفعہ قریبی اور رشتہ دار بھی لڑکی کو خراب کر رہے ہوتے