اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 131

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 131 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اپریل 2007 ہیں۔مثلاً گزشتہ جمعہ کی یہاں کی رپورٹ مجھے ملی کہ بعض بچیاں خطبے کے دوران اپنے اپنے موبائل پر یا تو text messages بھیج رہی تھیں اور یا با تیں کر رہی تھیں اور اس طرح دوسروں کا خطبہ جمعہ بھی خراب کر رہی تھیں جو وہ سن نہیں سکیں۔یہی شکایت بعض چھوٹے بچوں کے بارے میں آتی ہے۔آجکل ہر ایک کو ماں باپ نے موبائل پکڑا دیئے ہیں۔حکم تو یہ ہے کہ اگر خطبہ کے دوران کوئی بات کرے اور اسے روکنا ہو تو ہاتھ کے اشارے سے روکو کیونکہ خطبہ بھی نماز کا حصہ ہے۔یہ بظاہر چھوٹی باتیں ہیں لیکن بڑی اہمیت کی حامل ہیں اس لئے ان کا خیال رکھنا چاہئے۔اگر کسی نے اتنی ضروری پیغام رسانی کرنی ہے یا فون کرنا ہے کہ جمعہ کے تقدس کا بھی احساس نہیں اور مسجد کے تقدس کا بھی احساس نہیں تو پھر گھر بیٹھنا چاہئے ، دوسروں کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہئے۔عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ مسجد آ کر دوسروں کی نمازیں خراب کی جائیں۔نماز با جماعت کا اصل مقصد دلوں کی کبھی دور کرنا اور آپس میں محبت پیدا کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک ہو کر جھکنا ہے تا کہ ایک ہو کر واحد خدا کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوں، نہ کہ دلوں میں نفرتیں بڑھیں اور دوسروں کی تکلیف کا باعث بنیں۔پس یادرکھیں جہاں ایک مومن کے لئے نماز کا قیام انتہائی اہم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والا ہے وہاں مسجد کا تقدس بھی بڑا اہم ہے۔“ طور پر فرمایا: اسی خطبہ جمعہ میں مالی قربانی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور نے خواتین سے خاص وو زکوۃ کی اہمیت اور فرضیت سے کسی کو انکار نہیں۔اس لئے جن پر زکوۃ فرض ہے، ان کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ زکوۃ دینی لازمی ہے وہ ضرور دیا کریں اور خاص طور پر عورتوں پر تو یہ فرض ہے جوز یور بنا کر رکھتی ہیں۔سونے پر زکوۃ فرض ہے۔“