اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 106
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 106 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب نہیں کر رہی۔تو جن ماؤں نے نیک اولاد پیدا کی ہے وہ ہر وقت اللہ کے پیار کی نظر کے نیچے بھی رہیں گی۔اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ نہ کرنے پر تو سزا دے اور پوچھے اور اگر اچھا کام کوئی کرے تو خاموش بیٹھا رہے۔اللہ تعالی تو ایسا دیا لو ہے جو کئی گنا کسی عمل کی جزا دیتا ہے۔پس اس خدا سے جہاں خود بھی تعلق جوڑیں، وہاں اپنے بچوں کا بھی تعلق جڑوائیں۔یادرکھیں مائیں ہی ہیں جو بچوں کی قسمت بدلا کرتی ہیں بلکہ بچوں کے زیر اثر دوسروں کی قسمت بھی بدل جاتی ہے۔عورت ہی ہے جو ولی اللہ بھی پیدا کرتی ہے اور ڈا کو بھی پیدا کرتی ہے۔دیکھیں وہ ماں ہی تھی جس نے اپنے معصوم بچے کو سفر پر بھیجتے ہوئے یہ نصیحت کی تھی کہ بچے جو چاہے حالات گزر جائیں جھوٹ نہ بولنا۔جب ڈاکو نے بچے کو گھیرا اور اس سے پوچھا تمہارے پاس کیا ہے تو اس نے صاف صاف بتادیا کہ اسی اشرفیاں میری قمیض کے اندر سلی ہوئی ہیں۔ڈاکوؤں کے سردار نے کہا تم ہم سے چھپا سکتے تھے کیونکہ ہم تمہیں بچہ سمجھ کر یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہوگا۔لیکن بچے نے اُس نیک ماں کی تربیت کی وجہ سے کیا خوبصورت جواب دیا کہ میری ماں نے کہا تھا کہ بچے کبھی جھوٹ نہ بولنا، اگر آج پہلے امتحان پر ہی میں جھوٹ بولنے والا بن گیا تو میری ماں نے جو مجھ پر محنت کی ہے اُسے ضائع کرنے والا بنوں گا۔یہ سن کر ڈاکوؤں کا سردار دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اور تو بہ کر کے اللہ کے عبادت گزاروں میں بن گیا۔اور پھر وہ بھی ماں تھی جس نے اپنے بچے کی ہر برائی نہ صرف چھپائی بلکہ ہر بُرائی کے بعد کہہ دیا کرتی تھی کہ بچے کوئی بات نہیں لیکن لوگوں سے ذرا بچ کے رہنا کہیں تمہیں پکڑوا نہ دیں۔اور یہی بُرائیاں کرنے کی وجہ سے رفتہ رفتہ وہ بچہ ڈاکو اور قاتل بن گیا۔آخر پکڑا گیا اور پھانسی کی سزا ہوئی اور جب اس سے اُس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اُس نے کہا کہ میری ماں کو مجھ سے علیحدگی میں ملوا دو۔اور جب ماں قریب آئی تو اس نے کہا کہ ماں میری آخری خواہش یہ ہے کہ میں تیری زبان پہ پیار کرنا چاہتا ہوں۔ماں نے جب زبان نکالی تو بچے نے زبان کاٹ لی ، دوٹکڑے کر دیئے، اتنی زور سے کاٹا۔ماں نے شور مچادیا تو اس ڈاکو نے کہا کہ اگر تو بچپن میں میری نیک تربیت کرتی تو آج میں اس حال کو نہ پہنچتا اور پھانسی پر نہ چڑھتا۔تو نیک تربیت نہ کرنے سے اس ماں نے اپنی زبان بھی کٹوائی اور بچہ بھی اپنے سامنے مرتے دیکھا۔اپنے لئے رحم کی دعا کرنے والا بھی پیچھے نہ چھوڑ سکی۔اور وہ بچہ جس نے