اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 102

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 102 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب باپ اس بات کو معمولی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ نمازیں نہ پڑھیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔قرآن نہ پڑھا تو کیا فرق پڑتا ہے۔جماعتی کارکنان اور عہدیداران کے متعلق گھر میں بیٹھ کر بچوں کے سامنے باتیں کرلیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔رشتوں کے تقدس کا خیال نہ رکھا اور بچوں کے سامنے چچا، پھوپھی ، ماموں، خالہ، نانا، نانی، دادا، دادی کے متعلق باتیں کر دیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔جب گھروں کے جھگڑے چل رہے ہوتے ہیں تو اس طرح کی باتیں بھی ہورہی ہوتی ہیں۔حالانکہ یہی باتیں ہیں جور شتے داروں کے متعلق کی جائیں ، جماعتی خدمتگاروں کے متعلق کی جائیں بچوں کے ذہنوں سے پھر احترام ختم کر دیتی ہیں۔یہی باتیں ہیں جو نمازوں اور قرآن پر توجہ میں کمی پیدا کرتی ہیں اور پھر بچوں کو بے دین بنادیتی ہیں۔مجھے ملنے بھی جو بعض خاندان آتے ہیں تو جن کے ماں باپ کا جماعتی تعلق مضبوط ہوتا ہے، ان کے بچوں کے چہروں سے تأثر مل رہا ہوتا ہے، تا ثر ہی مختلف ہو رہا ہوتا ہے۔ایک پیار اور محبت ٹپک رہی ہوتی ہے ان بچوں سے بھی اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ بچوں کے حلیے سے، ان کے روئیے سے پتہ لگ رہا ہوتا ہے کہ یہ لڑکا یا لڑکی جواب جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں، اس بیچارے کو زبر دستی واسطے دے کر ملوانے لایا گیا ہے۔ورنہ اُسے ملاقات کا کوئی شوق نہیں تھا، کوئی دلچسپی نہیں ہے۔بعض مائیں تو کوشش کرتی ہیں لیکن باپ گھر کے فرائض اور حقوق صحیح طور پر ادا نہیں کرتے۔اس لئے بچے بگڑ جاتے ہیں۔مائیں رو رو کر بتاتی ہیں کہ اور لڑکے اور لڑکی بھی ہیں جو ملاقات کے لئے آئیں لیکن آنے سے انکاری ہیں۔ماحول کے زیر اثر ہو گئے ہیں تو تربیت کے لئے بچوں کی ابتدائی زندگی میں ماؤں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اگر شروع سے ہی تعلق ماں نے بچے کے ساتھ جوڑ لیا ہے اور دعاؤں کے ساتھ اور اپنے نیک عمل کے ساتھ تربیت کر رہی ہے تو اگر باپ بگڑا بھی ہوا ہے تو کچھ نہ کچھ بچت ہو جاتی ہے۔بچے کو بچپن سے لاڈ پیار میں بگاڑ نا نہیں چاہیے۔اس وقت اس کے دل میں نظام جماعت کی محبت اور خدا تعالیٰ کی محبت ڈالنی چاہیے۔اس وقت اپنے عمل سے اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے بچے کی تربیت پر بہت زور دینا چاہیے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اپنی زندگی کو ایک احمدی عورت کو صرف اپنی زندگی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جہاں میں نے