اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 101

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 101 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب یق کے مطابق اپنے گھر اور خاوند کے گھر کی نگرانی کرنی ہے۔اپنی اولاد کی دنیاوی تعلیم و تربیت کا خیال بھی رکھنا ہے۔اپنی اولاد کی اسلامی اخلاق کے مطابق تربیت بھی کرنی ہے اپنی اولاد کی روحانی تربیت بھی کرنی ہے۔اور ان تمام تربیتی امور کو اپنی اولاد میں رائج کرنے کے لئے ، ان کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لئے ، اپنے پاک نمونے قائم کرنے ہیں۔اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ڈھال کر عبادت اور دوسرے اعمال صالحہ بجالانے کے نمونے اپنی اولاد کے سامنے رکھنے ہیں۔تبھی ایک احمدی عورت اپنے خاوند کے گھر کی صحیح نگران کہلا سکتی ہے۔تبھی ایک احمدی ماں اپنی اولاد کی تربیت کا حق ادا کر سکتی ہے ورنہ اس کے قول وفعل میں تضاد کی وجہ سے کبھی اولاد صحیح تربیت نہیں پاسکتی۔ایک عمر تک تو اپنے ماں باپ کے زیر اثر اولا د ر ہے گی۔ماں باپ کی زندگیوں میں دو عملی کی حالت دیکھ کر صرف چڑ چڑاہٹ کا اظہار کرتی رہے گی۔اس سے آگے بڑھنے کی عموماً کوشش نہیں ہوتی۔لیکن جب اپنے ماں باپ کی حالت دیکھتے ہیں کہ کہہ کچھ رہے ہیں، کر کچھ رہے ہیں۔اپنے لئے اور اصول ہیں اور ہمارے لئے اور اصول ہیں تو یہیں بعض بچے تھے، یہاں بچوں کے حقوق کے اداروں میں یا پولیس کو کہہ کر بچوں کے ہوٹل میں چلے جاتے ہیں ان مغربی ممالک میں۔لیکن اکثریت ایک عمر تک برداشت کرتی ہے، جیسا کہ میں نے کہا، اور جب بلوغت کو پہنچتے ہیں تو بعض لڑکے اور لڑکیاں آزادزندگی گزارنے کے لئے گھر چھوڑ دیتے ہیں اور اس معاشرے کے زیر اثر جب اس قسم کے اکا دکا واقعات احمدی گھرانوں میں بھی ہوتے ہیں تو پھر ماں باپ پر یشان ہوتے ہیں۔بعض پھر اپنی عزت بچانے کے لئے بچوں سے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے تم جو چاہے کر ولیکن گھر میں آکر رہو، جو بیہودگیاں کرنی ہیں گھر میں رہ کر کرو۔ہماری عزت کا خیال رکھو گھر سے باہر نہ جاؤ۔ہمارے عزیزوں کے سامنے ہمیں رسوا نہ کرو۔ہمارے ملنے جلنے والوں کے سامنے ہمیں رسوا نہ کرو۔جماعت کے سامنے ہمیں ذلیل و رسوا نہ کرو۔گویا کہ ایک قسم کاcompromise ہو رہا ہوتا ہے کہ وہی بیہودگیاں گھروں میں رہ کر بھی جاری رکھ سکتے ہو یا گھر میں رہو اور جتنی مرضی باہر جا کے بیہودگیاں کر کے پھر واپس آجاؤ۔تو ان بگڑے ہوئے بچوں کا اثر پھر گھر کے دوسرے بچوں پر بھی پڑ رہا ہوتا ہے۔اور عموماً اس کی بنیادی وجہ ماں یا باپ کی اپنے عملی نمونوں اور اپنے قول میں فرق کی وجہ ہوتی ہے۔بعض ماں