اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 95
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 95 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب کی خواہش رکھتی ہے، اور ان میں جو اللہ کے حکموں کے منکر ہیں کے درمیان ایک بڑا واضح ہوکر یہ فرق ظاہر ہوتا ہے۔یہ ایک ایسا معیار ہے جس سے ہر ایک اپنے ایمان اور اللہ تعالیٰ اور رسول کے حکموں پر چلنے کا جائزہ لے سکتا ہے یہ ایک ایسی کسوٹی ہے جس سے ایک احمدی مرد اور عورت اپنے عہد بیعت کو پر کھ سکتا ہے۔قرآن کریم میں بے شمار احکامات ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں شامل ہونے کی شرط ان احکامات کو رکھا ہے جیسا کہ فرمایا کہ جو قرآن کریم کے پانچ سو حکموں کی یا دوسری جگہ سات سو حکموں پر عمل نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔پس ہر احمدی کو اس لحاظ سے ایک فکر کے ساتھ اس بات کا جائزہ لینا چاہیے اور ایک احمدی عورت جو نہ صرف اپنی عبادت کے میعاروں اور اعمالِ صالحہ کے معیاروں کو بہتر کر کے یا کرنے کی کوشش کر کے اپنی دنیا اور آخرت سنوار رہی ہوتی ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کی منزلیں بھی متعین کر رہی ہوتی ہے۔اس لئے ایک احمدی عورت کی ذمہ داری کئی چند ہو جاتی ہے کئی گناہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر پوری طرح نظر رکھتے ہوئے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی جماعت سے جو توقعات ہیں ان پر پورا اتر نے کی کوشش کرے۔خلیفہ وقت کی طرف سے جو نصائح کی جاتی ہیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ہمیشہ یا درکھیں کہ دنیا کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنا اگر کسی کے مقدر میں ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح کی جماعت کے ذریعے سے یہ مقدر کیا ہوا ہے۔پس اگر مسیح موعود کی فوج میں شامل ہونا ہے تو اپنے اعمال پر ہر وقت نظر رکھیں۔اگر مسیح موعود کی فوج میں شامل ہونا ہے تو اپنے اعمال پر بھی نظر رکھیں بعض باتوں کی طرف میں اس وقت مختصر اً توجہ دلاتا ہوں۔سب سے پہلی بات تو یہ یا درکھیں کہ آپ جلسے پر آئی ہیں اپنی دینی علمی اور روحانی ترقی کے لئے۔اور یہی مقصد لے کر آپ یہاں بیٹھی ہیں اور بیٹھنا چاہیے۔جیسا کہ میں نے کل خطبے میں بھی کہا تھا۔اس لئے یہاں جلسے کے پروگراموں کو پوری توجہ سے سنیں۔یہ نہ ہو کہ ٹولیاں بنا کر بیٹھی کیں مارتی رہیں، اپنے کپڑوں اور زیوروں کا ذکر کر