اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 314
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 314 خطبه جمعه فرموده 2 ستمبر 2005 (اقتباس) ان فضلوں کو سمیٹ کر ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔اور یہ ہر احمدی جوان، بوڑھے ،عورت ، مرد، بچے کا فرض ہے تا کہ وہ دعائیں نسلاً بعد نسل ہمارے حصے میں آتی چلی جائیں۔اور وہ اسی صورت میں ہوگا ( جیسا کہ میں جلسے کے دنوں میں بھی کہہ چکا ہوں ) کہ جب آپ نے ان تقاریر، ان نصائح، ان عبادتوں اور ان دعاؤں کو ان تین دنوں میں اپنی زندگیوں پر لاگو کیا اور اُن کے فیض سے حصہ پایا یا حصہ پاتے ہوئے اپنے آپ کو محسوس کیا۔اور جب بعضوں نے اس روحانی ماحول کو اپنے اوپر نازل ہوتے دیکھا۔بعض کو اللہ تعالیٰ اس ماحول کے نظارے بھی دکھا دیتا ہے تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنے۔لیکن جو اس طرح نظارے نہیں بھی دیکھ رہے ہوتے وہ بھی اس ماحول میں رہنے کی وجہ سے اس ماحول پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش سے فیض پارہے ہوتے ہیں۔نیک نیتی سے جلسے میں شامل ہونے والوں کو اللہ اپنے فضلوں کے نظارے دکھاتا ہے ایک خاتون نے ایک واقعہ لکھا تھا، میں نے کارکنان کی میٹنگ میں بھی بتایا تھا کہ آٹھ دس سال پہلے جب بیعت کی تو جلسے پر تشریف لائیں اور جس پرانی احمدی خاتون کے ساتھ آئی تھیں ان کا پروگرام یہ تھا کہ اپنے کسی عزیز کے ہاں رات کو رہنا ہے۔تو اس وقت یہ نئی بیعت کرنے والی بڑی پریشان تھیں کہ میرا تو یہاں کوئی واقف نہیں ہے، یہ میری ایک واقف عورت ہے، یہ بھی یہاں سے جا رہی ہے۔ان کو صحیح ماحول کا پتہ نہیں تھا علم نہیں تھا کہ جسے پر کیسا ماحول ہوتا ہے۔اکیلی میں کیا کروں گی۔کسی کو میں جانتی نہیں۔خیر پرانی احمدی خاتون تو رات ہوتے ہی چلی گئیں۔اور یہ نئی احمدی خاتون جلسہ گاہ کے انتظام کے تحت وہیں جلسہ گاہ میں ہی رہیں۔اور کہتی ہیں میں پریشانی میں دعائیں کرتی رہی۔اتنے میں ایسی کیفیت میں آنکھ لگ گئی۔( یہ مجھے مستحضر نہیں ہے ) بہر حال نظارہ دیکھا کہ آسمان سے ایک روشنی پھوٹی ہے جو دائرے کی شکل اختیار کر گئی ہے اور اس میں سے کچھ اوراق ، کچھ صفحے، کچھ کا غذ نیچے آئے ہیں جن پہ عربی عبارت تھی ، ان کو یاد تو نہیں کہ وہ عبارت کیا تھی لیکن ان کا خیال ہے کہ قرآن کریم کے ہی کچھ احکامات تھے، نصائح تھیں اور دعا ئیں تھیں۔بہر حال وہ کہتی ہیں میں نے اسی طرح وہ کا غذ جمع کئے اور جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو ان کے مطابق وہ نظارہ ان کے لئے اتنی تسکین کا باعث تھا کہ سارا خوف ، فکر سب کچھ دور ہو گیا۔یہ احساس ہی ختم ہو گیا کہ نئی جگہ ہے،