اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 80

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 80 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن فائدہ نہیں ہوتا۔یہ باپوں کی بھی ذمہ داری ہے، یہ ماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ انٹرنیٹ کے رابطوں کے بارہ میں بچوں کو ہوشیار کریں۔خاص طور پر بچیوں کو۔اللہ تعالیٰ ہماری بچیوں کو محفوظ رکھے۔تو ملازم رکھنے ہوں یا دوستیاں کرنی ہوں جس کو آپ اپنے گھر میں لے کر آرہے ہیں اس کے بارہ میں بہت چھان بین کر لیا کریں۔آج کل کا معاشرہ ایسا نہیں کہ ہر ایک کو بلا سوچے سمجھے اپنے گھر میں لے آئیں۔یہ قرآن کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنے میں ہی ہماری بھلائی ہے۔پھر بعض جگہوں پر یہ بھی رواج ہے کہ ہر قسم کے ملازمین کے سامنے بے حجابانہ آجاتے ہیں۔تو سوائے گھروں کے وہ ملازمین یا وہ بچے جو بچوں میں پلے بڑھے ہیں یا پھر بہت ہی ادھیڑ عمر کے ہیں جو اس عمر سے گزر چکے ہیں کہ کسی قسم کی بدنظری کا خیال پیدا ہو یا گھر کی باتیں باہر نکالنے کا ان کو کوئی خیال ہو۔اس کے علاوہ ہر قسم کے لوگوں سے، ملازمین سے پردہ کرنا چاہئے۔بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے ملازمین جن کو ملازمت میں آئے چند ماہ ہی ہوئے ہوتے ہیں، بے دھڑک بیڈ روم میں بھی آجا رہے ہوتے ہیں اور عورتیں اور بچیاں بعض دفعہ وہاں بغیر دوپٹوں کے بھی بیٹھی ہوئی ہوتی ہیں۔اور اس کو روشن دماغی کا نام دیا جاتا ہے۔یہ روشن دماغی نہیں ہے۔جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں تو پچھتاتے ہیں۔پھر جو چھوٹ ہے اس آیت میں ، وہ چھوٹے بچوں سے پردہ کی ہے۔فرمایا کہ چال بھی تمہاری اچھی ہونی چاہئے ، باوقار ہونی چاہئے ، یونہی پاؤں زمین پر مار کے نہ چلو۔اور ایسی باوقار چال ہو کہ کسی کو جرات نہ ہو کہ تمہاری طرف غلط نظر سے دیکھ بھی سکے۔جب تم پردوں میں ہوگی اور مکمل طور پر صاحب وقار ہوگی تو کسی کو جرات نہیں ہوسکتی کہ ایک نظر کے بعد دوسری نظر ڈالے۔پھر ہمارے معاشرے میں زیور وغیرہ کی نمائش کا بھی بہت شوق ہے۔گو چوروں ڈاکوؤں کے خوف سے اب اس طرح تو نہیں پہنا جا تا لیکن پھر بھی شادی بیاہ پر اس طرح بعض دفعہ ہو جاتا ہے کہ راستوں سے عورتیں گزر کر جارہی ہوتی ہیں جہاں مرد بھی کھڑے ہوتے ہیں اور وہاں ڈگر ڈگر زیور کی نمائش بھی ہو رہی ہوتی ہے۔تو اس سے بھی احتیاط کرنی چاہئے۔پھر حضرت مصلح موعودؓ نے پاؤں زمین پر مارنے سے ایک یہ بھی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شریعت نے ناچ یا ڈانس کو بھی مکمل طور پر منع کر دیا ہے کیونکہ اس سے بے حیائی پھیلتی ہے اور بعض عورتیں کہتی ہیں