اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 66
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 66 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب بھی ہے کہ ایک تو اپنی نظریں نیچی رکھیں اور مردوں کو نہ دیکھیں دوسرے قرآن کریم کے حکم کے مطابق پردہ کریں۔انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط کا پہلو اب یہاں یہ بہانے بنائے جاتے ہیں کہ یورپ میں پردہ کرنا بہت مشکل ہے۔یہ بالکل غلط بات ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ ایک طرح کا Complex ہے اور عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی ہے۔تم اپنی تعلیم چھوڑ کر خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی بجائے معاشرے کو خوش کرنے کے بہانے تلاش کر رہے ہو۔بلکہ اس معاشرے میں بھی سینکڑوں، ہزاروں عورتیں ہیں جو پردہ کرتی ہیں، ان کو زیادہ عزت اور احترام سے دیکھا جاتا ہے بہ نسبت پردہ نہ کرنے والیوں کے۔اور معاشرتی برائیاں بھی ان میں اور ان کی اولا دوں میں زیادہ پیدا ہورہی ہیں جو پردہ نہیں کرتیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے۔بعض دفعہ بہت ہی بھیانک صورت حال سامنے آجاتی ہے۔اب Internet کے بارے میں بھی میں کہنا چاہتا ہوں وہ بھی اسی پردہ نہ کرنے کے زمرہ میں آتا ہے کہ Chatting ہو رہی ہے۔یونہی جب آ کے Open کر رہے ہوتے ہیں انٹرنیٹ اور بات چیت (Chatting) شروع ہو گئی تو پھر شروع میں تو بعض دفعہ یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کون بات کر رہا ہے؟ یہاں ہماری لڑکیاں بیٹھی ہیں دوسری طرف پتہ نہیں لڑکا ہے یا لڑکی ہے اور بعض لڑکے خود کو چھپاتے ہیں اور بعض لڑکیوں سے لڑکی بن کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح یہ بات بھی میرے علم میں آئی ہے کہ لڑکیاں سمجھ کر بات چیت شروع ہوگئی جماعت کا تعارف شروع ہو گیا۔اور لڑکی خوش ہو رہی ہوتی ہے کہ چلو دعوت الی اللہ کر رہی ہوں۔یہ پتہ نہیں کہ اس لڑکی کی کیا نیت ہے۔آپ کی نیت اگر صاف بھی ہے تو دوسری طرف جولڑ کا Internet پر بیٹھا ہوا ہے اس کی نیت کیا ہے آپ کو کیا پتہ؟ اور آہستہ آہستہ بات اتنی آگے بڑھ جاتی ہے کہ تصویروں کے تبادلے شروع ہو جاتے ہیں۔اب تصویر میں دکھانا تو انتہائی بے پردگی کی بات ہے۔اور پھر بعض جگہوں پہ رشتے بھی ہوئے ہیں۔جیسے میں نے کہا کہ بڑے بھیانک نتیجے سامنے آئے ہیں۔اور ان میں سے اکثر رشتے پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد نا کام بھی ہو جاتے ہیں۔