اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 65

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 65 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب سے خود بخو د ہونے لگ جاتی ہیں۔پھر آپ نے فرمایا: قرآن شریف کے مخاطب چونکہ کل ملل اور فرقے تھے اور اس پر پہنچ کر تمام ضرورتیں ختم ہوگئی تھیں اس لئے قرآن کریم نے عقائد کو بھی اور احکام عملی کو بھی مدلل بیان کیا۔( یعنی تمام فرقوں اور قوموں کی ضرورتیں اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھیں۔اس لئے قرآن شریف میں ان سب کے مطابق حکم دیا گیا ہے اور عقائد کو بھی ، احکام عملی کو بھی ، جو ایسے حکم ہیں جن پر ہمیں عمل کرنا چاہئے دلیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ (النور:31) - یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ کسی کے ستر کو آنکھ پھاڑ کر نہ دیکھیں اور باقی تمام فروج کی بھی حفاظت کریں۔یعنی انسان پر لازم ہے کہ انسان چشم خوابیدہ ہو (یعنی کہ پوری آنکھ نہ کھولے۔بلکہ جھکی ہوئی نظر ہو۔'' تا کہ کسی غیر محرم عورت کو دیکھ کر فتنہ میں نہ پڑے۔کان بھی فروج میں داخل ہیں جو قصص اور مخش باتیں سن گرفتنہ میں پڑ جاتے ہیں یعنی کہ ( کان جو ہیں یہ بھی فروج میں داخل ہیں۔جو قصے سن کر باتیں سن کر پھر فتنے میں پڑ جاتے ہیں۔کیونکہ جھگڑے کی باتیں جو ساری سنی جاتی ہیں جس طرح کہ پہلے میں نے کہا کہ کوئی بات اس سے سنی اور پھر جا کر لڑنے پہنچ گئے۔تو یہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔اس لئے عام طور پر فرمایا کہ تم موریوں (سوراخوں) کو محفوظ رکھو اور فضولیات سے بالکل بند رکھو۔ذَالِكَ أَزْكَى لَهُمْ (النور: ۳۱) یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔اور یہ طریق تعلیم ایسی اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اپنے اندر رکھتا ہے۔جس کے ہوتے ہوئے بدکاروں میں نہ ہو گئے۔( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 55) اب جہاں مردوں کو یہ فرمایا ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو کہ عورتوں کو نہ دیکھو، وہاں عورتوں کے لئے