اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 64
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 64 سالانہ اجتماع یو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب رہے کہ اس میں کوئی برائی نہیں۔اگر کوئی اس وہم میں ہے تو اس کو بہت زیادہ استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ رحم کرے۔پھر اس آیت میں ایک یہ حکم ہمیں دیا گیا ہے کہ شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والیاں بنو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اس سے مراد آنکھ ، کان منہ وغیرہ بھی ہیں کیونکہ اگر تم نے ان کی حفاظت نہ کی تو یہ بھی برائی پھیلانے کا ایک ذریعہ ہیں“۔( کانوں سے بری باتیں سنو، منہ سے بری باتیں کرو تو یہ بھی ان کی حفاظت نہیں ہے۔آنکھوں سے غلط قسم کے نظارے دیکھو تو یہ بھی منع ہے۔بعض فلمیں دیکھی جاتی ہیں چاہے وہ گھر میں بیٹھ کر دیکھ رہے ہوں یا باہر جا کر دیکھ رہے ہوں جو اخلاق سوز قسم کی فلمیں ہیں وہ بھی اسی سوز زمرہ میں آتی ہیں کہ تم نے اپنی آنکھوں کی حفاظت نہیں کی۔) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ (المومنون:6) یعنی جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع وخضوع کریں گے، لغو سے اعراض کریں گے اور زکوۃ ادا کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں گے۔کیونکہ جب ایک شخص دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ کسی اور کے مال کو نا جائز طریقے سے کب حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور کب چاہتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے حقوق کو دبا لوں اور جب وہ مال جیسی عزیز چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔تو پھر آنکھ، ناک، كان، زبان وغیرہ کو غیر محل پر کب استعمال کرنے لگا ؟“۔(یعنی کہ جہاں ان کو استعمال نہیں کرنا چاہیے وہاں کس طرح استعمال کر سکتا ہے۔کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک شخص اول درجہ کی نیکیوں کی نسبت اس قدر محتاط ہوتا ہے تو ادنیٰ درجہ کی نیکیاں خود بخود عمل میں آتی جاتی ہیں۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد سوم ،سورۃ المومنون ، صفحہ 398) یعنی جب بڑی بڑی نیکیوں کے بارے میں محتاط ہو جاتا ہے تو چھوٹی چھوٹی جو نیکیاں ہیں اس شخص