اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 57

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 57 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب خلافت اور نظام جماعت کا احترام کچھ نہیں رہے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھی سرسری نظر سے دیکھنے والے ہوں گے۔اور جب بھی ان کو شریعت کے بارے میں یا مذہب کے بارے میں یا جماعت کے بارے میں بتایا جائے گا، کوئی ایسی بات ہوگی ، کوئی حکم دیا جائے گا، تو ایسے بچے پھر منہ پرے کر کے گزر جانے والے ہوتے ہیں، کوئی توجہ نہیں دے رہے ہوتے۔یہاں میں یہ بھی واضح کر دوں کہ ایسی ماؤں کے بچے پھر ایک وقت میں ان کے ہاتھ سے بھی نکل جاتے ہیں۔ان کے کنٹرول میں بھی نہیں رہتے۔اور پھر ماؤں کو فکر ہوتی ہے کہ ہمارے بچے بگڑ گئے۔تو ان کے بگڑنے کی ذمہ دار تو تم خود ہو۔اگر تم چاہتی ہو تو اپنے عمل سے اپنی اولا دکو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا سکتی ہو۔کل مجھے امیر صاحب کہنے لگے کہ یہاں بچوں کی تربیت کے بڑے مسائل ہیں۔بچے اسکول میں جاتے ہیں اور وہاں سکھایا جاتا ہے کہ یہ سوال کرو۔اور جب ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ یہ کام کرو اور اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے تو سوال کرتے ہیں کہ پہلے ہمیں سمجھاؤ کہ کیوں؟ تو میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ یہ بچوں کی تربیت کے مسائل نہیں ہیں۔یہ اچھی بات ہے انہیں سوال کرنے چاہئیں۔یہ ماں اور باپ کی تربیت کے مسائل ہیں۔بچے سوال کرتے ہیں تو ماں باپ ان کے سوالوں کے جوابات دیں۔اس بارہ میں میں پہلے بھی جلسہ پر توجہ دلا چکا ہوں کہ بچوں سے دوستی کا ماحول پیدا کریں۔ان کو احساس ہو کہ ہمارے ماں باپ ہمارے ہمدرد بھی ہیں، ہمارے دوست بھی ہیں۔اور جب خود آپ میں دین کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا تو آپ ایک مضبوط ایمان والے ہوں گے۔اپنے بچوں کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں گے، نظام کا احترام سکھانے والے ہوں گے ، تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بچے آپ کا کہا ماننے والے نہ ہوں۔جو سوال و جواب ہو گا اس سے بہر حال ان کی تسلی ہو گی ، ان کی Satisfaction ہوگی۔اور جب تک یہ بچے اس شعور کی عمر کو پہنچیں کہ ان کے دل میں مذہب کے بارے میں سوال پیدا ہونے شروع ہوں تو قرآن، حدیث پڑھ کر ، خلفاء کے خطبات سن کر ، علماء سے پوچھ کر، کتابیں پڑھ کر وہ خود اپنے سوالوں کا جواب تلاش کر لیں گے۔یہ بات کئی دفعہ تجربہ میں آئی ہے کہ ماں بچوں کے سامنے کہہ دیتی ہے کہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔