اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 49

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 49 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب شراب خوری کا زور ہے اور دلوں میں دہر یہ پن کے خیالات پھیل رہے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے احکام کی عظمت دلوں سے اُٹھ گئی ہے۔زبانوں پر سب کچھ ہے اور لیکچر بھی منطق اور فلسفہ سے بھرے ہوئے ہیں مگر دل روحانیت سے خالی ہیں۔ایسے وقت میں کب مناسب ہے کہ اپنی غریب بکریوں کو بھیڑیوں کے بنوں میں چھوڑ دیا جائے۔یہاں عورت کو بکریوں سے اور بھیڑیے کو گندہ معاشرے سے تشبیہ دی ہے۔دیکھ لیں اب ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے زمانے سے مزید سو سال آگے چلے گئے ہیں تو اب اس کی کس قدر ضرورت ہے۔نہ مغرب محفوظ ہے اور نہ مشرق محفوظ ہے۔ذرا گھر سے باہر نکل کر دیکھیں تو جو کچھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے آپ کو نظر آجائے گا۔پھر بے احتیاطی کیسی ہے۔لا پرواہی کیسی ہے۔سوچیں غور کریں اور اپنے آپ کو سنبھالیں۔لیکن بعض مرد زیادہ سخت ہو جاتے ہیں ان کو بھی یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ قید کرنا مقصد نہیں ہے، پردہ کرانا مقصد ہے۔اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غض بصر کریں۔جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں تو محفوظ رہیں گے۔یہ نہیں کہ انجیل کی طرح یہ حکم دے دیتا کہ شہوت کی نظر سے نہ دیکھ۔افسوس کی بات ہے کہ انجیل کے مصنف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ شہوت کی نظر کیا ہے۔نظر ہی تو ایک ایسی چیز ہے جو شہوت انگیز خیالات کو پیدا کرتی ہے۔اس تعلیم کا جو نتیجہ ہوا ہے وہ ان لوگوں سے مخفی نہیں ہے جو اخبارات پڑھتے ہیں۔اُن کو معلوم ہوگا کہ لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے کیسے شرمناک نظارے بیان کئے جاتے ہیں۔اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے۔وہ بیشک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔مساوات کے لئے عورتوں