اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 369

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 369 جلسہ سالانہ قادیان 2005 مستورات سے خطاب توجہ ہوتی ہے، ایک دوسرے کو دیکھ کر توجہ پیدا ہوتی ہے کہ ہمارے پاس ویسی چیز ہو، اُس سے بہتر چیز ہو۔اگر نیکیوں کی طرف توجہ دیں گی تو اللہ تعالیٰ آپ میں ایک تو قناعت پیدا کرے گا۔دوسرے آپ کی ضروریات پوری کرے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تو اپنے کامل مومن اور تقویٰ پر چلنے والوں کو ایسی ایسی جگہوں اور طریقوں سے رزق دیتا ہوں کہ جو اس کی سوچ سے بھی باہر ہیں۔انسان کی سوچ وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔جیسا کہ فرمایا: وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق:4) یعنی وہ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتا اور جو اللہ پر توکل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے۔جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے، اس کی عبادت کرنے والے، اس کے حضور جھکنے والے، اللہ تعالیٰ کی خشیت دل میں رکھنے والے ہیں ان سب کیلئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں رزق بھی دوں گا اور دنیاوی اور روحانی فائدے بھی ملیں گے۔روحانی اور جسمانی ہر طرح کے رزق مہیا ہوں گے۔جب ایک انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو پھر کسی اور کے آگے جھکنا، جھوٹ کا سہارا لینا، کسی کو اپنا رازق سمجھنا ، ان باتوں کو جہالت اور بے وقوفی کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے۔پھر ہر وقت یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ تمام عزتوں کا سر چشمہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اگر اللہ نہ چاہے تو کوئی انسان نہیں جو کسی دوسرے انسان کو عزت دے سکے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيْعًا (النساء: 139) کہ سب کی سب عزت اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اس لئے اگر عزت بھی حاصل کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والی بنیں۔اس سے ہمیشہ مدد مانگیں۔جب آپ عابدات بن کے اس سے مدد مانگ رہی ہوں گی ، اس پر توکل کر رہی ہوں گی تو جیسا کہ اس نے وعدہ فرمایا ہے روحانی ترقی کے بھی سامان کر رہی ہوں گی اور دنیاوی ترقی کے بھی سامان کر رہی ہوں گی۔قرآن کریم میں فرمودہ بہترین عورت کی خصوصیات اللہ تعالیٰ نے بہترین عورت کی جو خصوصیات بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہیں کہ مسلمات ہوں۔اسلام قبول کیا ہے تو اس کو سمجھ رہی ہوں۔اللہ اور اس کے رسول کے حکموں پر چلنے والی ہوں۔مومنات