اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 365
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 365 جلسہ سالانہ قادیان 2005 مستورات سے خطاب معاشرے سے بھی آئے ہوں گے جن کی اس قسم کی عادتیں ہوں گی۔عادتیں پکی ہو جاتی ہیں اور خدا سے زیادہ ان پیروں فقیروں اور قبروں پر اعتقاد اور اعتماد ہوتا ہے، اس لئے یہ خطرہ رہتا ہے کہ جب اس طرح جماعت میں شمولیت ہو رہی ہو تو ایسے لوگ دوسرے کم علم والوں کو بھی متاثر نہ کر دیں۔اس لئے لجنہ کے نظام کو تربیت کے معاملے میں بہت فعال ہونا چاہیے۔معمولی سی بھی کوئی ایسی حرکت نہ ہو جس سے شرک کی بو آتی ہو۔ان نو مبایعات کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں۔جو پرانی احمدی ہیں ان کے بھی جائزے لیتی رہیں۔وہ خود بھی اپنے جائزے لیتی رہیں کہ کس حد تک وہ احمدیت میں رہ کر خدا کے قریب ہو رہی ہیں۔حضرت مسیح موعود کی بعثت کا مقصد تو بندے کو خدا کے قریب لانا تھا جس کو دنیا بھول چکی تھی۔یہ جونئی شامل ہونے والی ہیں ان میں سے کچھ تو بالکل دیہاتی ماحول سے آئی ہوئی ہیں۔ان کی تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ان میں سے جو پڑھی لکھی ہیں ان کو خود سوچنا چاہیے کہ ایک طرف تو عقل یہ کہتی ہے اور ہم اس کو سمجھتے ہیں کہ خدا ہی ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے۔خدا ہی ہے جو سب قدرتوں کا مالک ہے۔خدا ہی ہے جو رب العالمین ہے۔تمام کائنات کی ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔پھر ان نام نہاد پیروں فقیروں یا قبروں کے چکر میں کیوں پڑا جائے۔خود عقل کرنی چاہیے ، سوچنا چاہیے اور اس لحاظ سے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔نو مبائعین کی اصلاح و تربیت کی ضرورت ہے میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، مجھے کسی نے بتایا کہ پاکستان میں ایک نئی بیعت کرنے والی عورت تھی یا شائد احمدیت کے قریب تھی بہر حال اس نے احمدی عورت کو اپنا بچہ دکھایا اور کہا کہ یہ مجھے داتا صاحب نے دیا ہے۔تو احمدی عورت نے اس سے کہا کہ اولا د تو خدا دیتا ہے کسی مرے ہوئے میں بلکہ کسی زندہ میں بھی یہ طاقت کہاں ہے کہ کسی کو اولاد دے سکے۔تو اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں میں کئی سال خدا سے مانگتی رہی۔(اب کس طرح مانگتی رہی یہ تو نہیں پتہ ) میری اولاد نہیں ہوئی اور پھر صرف ایک دفعہ میں داتا صاحب کے مزار پر گئی اور میں نے بیٹاما نگا تو میرے یہ بیٹا ہو گیا۔تو اللہ تعالیٰ بعض دفعہ آزماتا بھی ہے، دیکھتا ہے کسی میں کتنا ایمان ہے۔اور بعض دفعہ قانونِ قدرت کے تحت ویسے ہی ایک چیز مل جاتی ہے جس کو انسان سمجھ رہا ہوتا ہے کہ شاید مجھے فلاں جگہ سے مل گئی۔اللہ تعالیٰ