اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 353
الازھار لذوات الخمار‘ جلد سوم حضہ اوّل 353 جلسہ سالانہ ماریشس 2005 مستورات سے خطاب ہے۔پس اپنی نمازوں کی حفاظت کرو اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے دعائیں کرو۔ان کے دین پر قائم رہنے کے لئے دعائیں کرو اور ان کے روشن مستقبل کے لئے دعائیں کرو۔اس نیک نیتی کی وجہ سے جہاں یہ دعائیں اولاد کے حق میں اللہ تعالیٰ قبول فرما رہا ہوگا وہاں عبادتوں کے ان نمونوں کے زیرِ اثر جو آپ اپنی اولاد کے سامنے قائم کر رہی ہوں گی آپ کی اولا د بھی ان نیکیوں پر چلنے والی بن جائے گی ، نمازوں اور عبادتوں کی طرف توجہ دینے والی ہوگی۔پس یہ نمازیں ہی ہیں جو آپ پر بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی ضمانت ہوں گی۔میری ملاقات کے دوران بہت سی عور تیں پوچھتی ہیں کہ کوئی وظیفہ بتائیں ہمیں کوئی دعا بتا ئیں تا کہ ہماری پریشانیاں دور ہوں۔سب سے بڑی دعا اور وظیفہ نماز ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب بھی کسی نے اس طرح پوچھا تو آپ نے ہمیشہ یہی فرمایا کہ سب سے بڑی دعا اور وظیفہ نماز ہے۔تم نماز کو سنوار کر ادا کرو اور وقت پر ادا کرو تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والی ہوگی۔ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نما ز عبادت کا مغز ہے۔پس یہ خیال کہ اس کے علاوہ بھی کوئی دعا اور وظیفہ ہے ، غلط خیال ہے۔کوئی بھی اور وظیفہ نہیں جو نماز کو چھوڑ کر پڑھا جائے۔اس لئے خود بھی نمازوں کی طرف خاص توجہ پیدا کریں اور اپنی اولادوں کی بھی نگرانی کریں کہ وہ نماز پڑھنے والی ہو۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ سات سال کا ہو تو اس کو نماز کے لئے کہنا شروع کردو اور دس سال کی عمر میں اس سے پابندی کرواؤ۔تو اس طرف توجہ دینا ماؤں کا فرض ہے۔جہاں یہ ماؤں کا فرض ہے وہاں باپوں کا بھی فرض ہے جو دور بیٹھے سن رہے ہیں۔وہ یہ نہ نہ سمجھیں کہ شاید ہم اس فرض سے فارغ ہیں۔اس وقت کیونکہ میں عورتوں سے مخاطب ہوں اس لئے میں ان کو توجہ دلا رہا ہوں کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور اپنے بچوں کی نمازوں کی بھی اپنے نمونے سے اور انہیں توجہ دلا کر بھی حفاظت کریں۔بعض ماں باپ شکایت کرتے ہیں اور اس فکر کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کی صحیح تربیت