اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 341

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 341 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء اس لئے فرمایا کہ صبر کرنا بھی مومن کی ایک بہت بڑی شان ہے۔ایک مومن عورت کی یہ بہت بڑی شان ہے اور اس صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بے انتہا اجر سے نوازتا ہے۔پھر عاجزی ایک بہت بڑا وصف ہے۔اگر یہ پیدا ہو جائے تو ہر انسان ہر عورت ہر مرد ایک دوسرے کی عزت اور احترام کرنا شروع کر دے گا اور نتیجہ معاشرے میں امن اور سلامتی قائم ہو جائے گی ، معاشرہ امن اور سلامتی کا گہوارہ بن جائے گا۔کسی کو بعض دفعہ اپنے خاندان کی بڑائی کا احساس ہورہا ہوتا ہے کسی کو اپنے امیر ہونے کا، دولت مند ہونے کا زیادہ احساس ہو رہا ہوتا ہے۔کسی کو اپنی اولاد کی بعض خصوصیات کی وجہ سے بڑائی کا احساس ہورہا ہوتا ہے غرض مختلف چیزیں ہیں جن سے انسان کے دماغ میں تکبر پیدا ہوتا ہے اور جہاں تکبر ہو وہاں عاجزی کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔وہاں سے عاجزی ختم ہو جاتی ہے۔ہم تو اُس مسیح و مہدی کے ماننے والے ہیں جس کو اُس کی عاجزی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ” تیری عاجزانہ راہیں اُسے پسند آئی ہیں۔پس اے مسیح محمدی سے منسوب ہونے والی عورتو ! اِس عاجزی کو اپنا خاص وصف بنالو تا کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں تم بھی پسندیدہ ٹھہرو۔پھر ایک خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ سچی مومن عورتیں صدقہ کرنے والی ہیں۔پہلے بھی اس کا ذکر گزر چکا ہے۔مالی قربانیوں میں جو احمدی خواتین کرتی ہیں بڑھ چڑھ کر آگے آنے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ اور بھی توفیق دیتا چلا جائے۔پھر روزہ رکھنے والیاں ہیں، عبادتیں کرنے والیاں ہیں۔روزہ کیا ہے اللہ تعالیٰ کی خاطر اُس کے حکم کے مطابق جائز باتوں سے کچھ وقت کے لئے رکنا۔جن کی عام حالات میں اجازت ہو ان سے اپنے آپ کو روک کے رکھنا۔اس سے صبر کی بھی عادت پڑے گی، نیکیوں کی بھی عادت پڑے گی اور عبادتوں کی بھی عادت پڑے گی، قربانی کی بھی عادت پڑے گی ، نظامِ جماعت سے تعاون کی بھی عادت پڑے گی۔پس یہ جو دو ہفتے پہلے رمضان گزرا ہے اس نے آپ میں نیکیوں کو قائم کرنے کی عادت ڈالی ہے،صبر کی عادت ڈالی ہے اور بہت ساری نیکیاں کرنے کی عادت ڈالی ہے انہیں اب اپنی زندگیوں کا حصہ بنالیں۔اسلام کے ہر عمل کی یہی شرط ہے کہ اس میں مستقل مزاجی سے عمل کرنے کی طرف توجہ رہے۔