اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 29
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 29 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب کی پیداوار ہو۔اور تمہیں ایک دوسرے پر برتری حاصل نہیں۔نفس واحدہ سے پیدا ہونے کا ایک دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کا آغاز ایک ایسے جاندار سے ہوا ہے جو اپنی ذات میں نہ نر تھا نہ مادہ۔افزائشِ نسل کے لئے زندگی کی ایک ہی ابتدائی قسم استعمال ہوتی تھی جسے نفس واحدہ فرمایا گیا ہے۔یعنی وہ قسم نہ تھی نہ مادہ۔پس اس پہلو سے نہ نر کو مادہ پر کوئی فوقیت حاصل ہے اور نہ مادہ کو نر ( خطاب حضرت خلیفہ مسیح الرابع بر موقع جلسہ سالانہ انگلستان 26 جولائی 1986ء) اسلام کی خوب صورت تعلیم پر مغرب میں جہاں اور بہت سے اعتراض کئے جاتے ہیں وہاں ایک یہ بھی ہے کہ عورت کو اس کا صحیح مقام نہیں دیا جاتا۔یہ ایک انتہائی جھوٹا اور گھناؤنا الزام ہے جو عورت کے دل سے اسلام کی حسین تعلیم کو نکالنے کے لئے دجالی قوتوں نے لگایا ہے۔حالانکہ مغرب جو آج عورت کی آزادی کا دعویدار ہے خود یہاں بھی ماضی میں چند دہائیاں پہلے تک عورت کو بہت سے حقوق سے محروم کیا جاتا تھا۔تفصیلات میں اگر جاؤں تو سارا وقت انہی تفصیلات پر ختم ہو سکتا ہے کہ عورت پر یورپ میں، مغرب میں کیا کیا پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔مختصر امثال دیتا ہوں کہ عورتوں سے مردوں کی نسبت زیادہ کام لیا جاتا تھا۔عورتوں کو مرد کی جائیداد سمجھا جاتا تھا۔عورت کو گواہی کا حق حاصل نہیں تھا۔اور 1891 ء تک، تقریباً سو سال پہلے تک، بہت سے مغربی ممالک میں عورت کو مرد کی طرف سے وراثت میں جائیداد ملنے کا جو حق ہے اس سے محروم رکھا گیا تھا۔ووٹ کا بھی حق نہیں تھا۔بعض ملکوں میں طلاق کی صورت میں عورت بچوں کے حق سے بھی محروم کر دی جاتی تھی۔بیسویں صدی میں بھی بہت سے ایسے حقوق تھے جن سے عورتیں صرف اس لئے محروم تھیں کہ وہ عورت ہے۔تو ان لوگوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اسلام پر اعتراض کریں کہ اسلام میں عورت کے حقوق نہیں ہیں۔پس کوئی عورت، کوئی بچی مغرب کے اس دجل سے متاثر نہ ہو۔اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے اگر پہلے مغرب میں عورت کے حقوق نہیں تھے تو اب تو ہم نے قائم کر دئے ہیں۔تو یہ غلط کہتے ہیں۔یہ اب انہوں نے قائم نہیں کئے بلکہ یہ عورت نے خود لڑ بھڑ کر شور مچا کر ایک رد عمل کے طور پر لئے ہیں۔اگر آپ ان لوگوں کے گھروں میں جھانک کر دیکھیں تو ان