اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 324

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 324 جلسہ سالانہ سویڈن 2005 مستورات سے خطاب بھی ہیں ، کام بھی کرتی ہیں، لیکن پردے میں۔تو جو پردے کی وجہ سے کام یا پڑھائی میں روک کا بہانہ کرتی ہیں ان کے صرف بہانے ہیں۔نیک نیت ہو کر اگر کہیں اس وجہ سے روک بھی ہے تو اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔آپ جہاں ملازمت کرتی ہیں ان کو بتا ئیں تو کوئی پابندی نہیں لگا تا کہ حجاب ا تارو یا سکارف اتار دیا برقع اتارو اور پھر نیک نیتی سے کی گئی کوششوں میں اللہ تعالیٰ بھی مددفرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود دفرماتے ہیں کہ : ”اسلامی پردے سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔( یعنی اپنے آپ کو ڈھانک کر رکھیں۔وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے۔بعض پیشے ایسے ہیں، بعض کام ایسے ہیں ، بعض ملک ایسے ہیں جہاں کام کرنے بھی پڑتے ہیں، باہر بھی جانا پڑتا ہے۔تو وہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔اس پر پابندی نہیں ہے۔فرمایا کہ باہر نکلنا منع نہیں ہے، وہ بے شک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔مساوات کے لئے عورتوں کے نیکی کرنے میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے۔اور نہ ان کو منع کیا گیا ہے کہ وہ نیکی میں مسابقت نہ کریں۔جس طرح مرد نیکیاں کرتے ہیں عورتیں بھی نیکیاں کرتی ہیں۔بلکہ بعض دفعہ عورتیں نیکیوں میں مردوں سے بڑھ جاتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں عورتوں کی بڑی کثیر تعداد ہے جو مردوں سے نیکیوں میں بڑھی ہوئی ہے، ہر جگہ اور ہر ملک میں ہے۔فرمایا کہ: اسلام نے یہ کب بتایا ہے کہ زنجیر ڈال کر رکھو۔اسلام شہوات کی بناء کو کا تنا ہے۔یورپ کو دیکھو کیا ہورہا ہے۔66 یورپ میں اب یہ پردے کا بڑا شور اٹھتا ہے۔فرمایا کہ یورپ کو دیکھو کہ کیا ہوتا ہے۔اب آپ دیکھ لیں، یہاں غیر ضروری آزادی کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد ہی طلاقیں بھی ہوتی ہیں اور گھر بھی برباد ہوتے ہیں۔اور یہ نسبت مشرق کے مقابلے میں مغرب میں بہت بڑھی ہوئی ہے۔یہاں جو طلاقیں