اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 323

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 323 جلسہ سالانہ سویڈن 2005 مستورات سے خطاب بہنوں کو بھی ، اپنے نمونے قائم کر کے ان کے لئے بھی تربیت کے نمونے قائم کریں۔ان کے لئے بھی آپ مثال بنیں۔بعض دفعہ بعد میں آنے والی نیکی اور تقویٰ میں پہلوں سے آگے نکل جاتی ہیں۔افریقہ میں بھی میں نے دیکھا ہے پردہ کی پابندی اور اسلامی تعلیم پر عمل کرنے والی کئی خواتین ہیں جو مثال بن سکتی ہیں۔امریکہ میں بھی وہاں کی مقامی کئی ایسی خواتین ہیں جو احمدی ہوئیں اور مثال بن گئیں۔جرمنی میں بھی کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے بیعت کی اور مثال بن گئیں۔یہاں آپ کے ملکوں میں بھی ایسی خواتین ہیں۔ان ملکوں میں بھی کئیوں کی پردے کی بڑی اچھی مثالیں ہیں اور دوسرے احکامات پر عمل کرنے کی بھی مثالیں ہیں۔تو نئی بیعت کرنے والیاں ہمیشہ یادرکھیں کہ اگر کسی پاکستانی عورت میں کوئی برائی دیکھیں تو ٹھو کر نہ کھائیں۔چند اگر بُری ہیں تو بہت بڑی اکثریت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھی بھی ہیں۔پھر آپ نے کسی مرد یا عورت کی بیعت نہیں کی بلکہ حضرت مسیح موعود کو مانا ہے۔اپنے نمونے قائم کر کے جیسا کہ میں نے کہا پرانی احمدیوں کے لئے بھی تربیت کے سامان پیدا کریں۔اس سے آپ کو دوہرا ثواب ہوگا آپ دوہرے ثواب کما رہی ہوں گی۔پر دے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عورت بند ہو جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جنگوں میں بھی جایا کرتی تھیں۔پانی وغیرہ پلایا کرتی تھیں۔دوسرے کاموں میں بھی شامل ہوتی تھیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسلام کے بہت سے احکام کی وضاحت اور تشریح ہمیں حضرت عائشہؓ کے ذریعہ سے ملی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ نے آدھا دین سکھایا ہے۔اس لئے روشن خیالی تعلیم حاصل کرنا علم حاصل کرنا بھی بچیوں کے لئے ضروری ہے۔اور ضرور کرنا چاہئے۔نہ صرف اپنے لئے ضروری ہے بلکہ آئندہ ان بچوں کے لئے اور ان نسلوں کے لئے بھی ضروری ہے جو آپ کی گودوں میں پلنے اور بڑھنے اور جوان ہونے ہیں اور جنہوں نے احمدیت کی خدمت کرنی ہے۔اگر مجبوری سے کسی کو کام کرنا پڑتا ہے، کسی جگہ ملازمت کرنی پڑتی ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن ان باتوں کا بہانہ بنا کر ان ملازمتوں کا، نوکریوں کا یا تعلیم حاصل کرنے کا بہانہ بنا کر پردے نہیں اتر نے چاہئیں اور یہاں مقامی جیسے کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے ڈینش یا سویڈش شائد چند نارو بکن بھی ہوں۔مجھے ابھی کوئی ملی نہیں ، وہ تو کم ہیں۔اس طرح پاکستانی خواتین بھی ہیں جو پڑھتی