اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 322 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 322

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 322 جلسہ سالانہ سویڈن 2005 مستورات سے خطاب اوڑھنیاں ڈالنے کا حکم ہے اس لئے گلے میں دو پٹہ ڈال لیا یا سکارف ڈال لیا تو یہ کافی ہو گیا۔تو ایک تو یہ حکم ہے کہ زینت ظاہر نہ کریں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب باہر نکل تو اتنا چوڑا کپڑا ہو جو جسم کی زینت کو بھی چھپاتا ہو۔دوسری جگہ سر پر چادر ڈالنے کا بھی حکم ہے۔اسی لئے دیکھیں تمام اسلامی دنیا میں جہاں بھی تھوڑا بہت پردہ کا تصور ہے وہاں سر ڈھانکنے کا تصور ضرور ہے۔ہر جگہ حجاب یا نقاب اس طرح کی چیز لی جاتی ہے یا سکارف باندھا جاتا ہے یا چوڑی چادر لی جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ (النور:32) بڑی چادروں کو اپنے سروں سے گھسیٹ کر سینوں تک لے آیا کرو۔بڑی چادر ہو سر بھی ڈھانکا ہو اور جسم بھی ڈھانکا ہو۔باپوں اور بھائیوں اور بیٹوں وغیرہ کے سامنے تو بغیر چادر کے آسکتی ہو۔اب جب باپوں اور بھائیوں اور بیٹوں کے سامنے ایک عورت آتی ہے تو شریفانہ لباس میں ہی آتی ہے۔چہرہ وغیرہ ننگا ہوتا ہے۔تو فرمایا کہ یہ چہرہ وغیرہ ننگا جو ہوتا ہے یہ باپوں اور بھائیوں اور بیٹوں اور ایسے رشتے جو محرم ہوں ، ان کے سامنے تو ہو جاتا ہے لیکن جب باہر جاؤ تو اس طرح ننگا نہیں ہونا چاہئے۔اب آج کل اس طرح چادر میں نہیں اوڑھی جاتیں۔لیکن نقاب یا برقع یا کوٹ وغیرہ لئے جاتے ہیں۔تو اس کی بھی اتنی سختی نہیں ہے کہ ایسا ناک بند کر لیں کہ سانس بھی نہ آئے۔سانس لینے کے لئے ناک کو نگا رکھا جاسکتا ہے لیکن ہونٹ وغیرہ اور اتنا حصہ، دہانہ اور اتنا ڈھانکنا چاہئے۔یا تو پھر بڑی چادر لیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے سر پر اوڑھیں، خود بخود پردہ ہو جاتا ہے، بڑی چادر سے گھونگٹ نکل آتا ہے۔یا اگر اپنی سہولت کے لئے برقع وغیرہ پہنتے ہیں تو ایسا ہو جس سے اس حکم کی پابندی ہوتی ہو۔تنگ کوٹ پہن کر جو جسم کے ساتھ چمٹا ہو یا سارا چہرہ نگا کر کے تو پردہ ، پردہ نہیں رہتا وہ تو فیشن بن جاتا ہے۔پس میں ہر ایک سے کہتا ہوں کہ اپنے جائزے خود لیں اور دیکھیں کہ کیا قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق ہر ایک پردہ کر رہا ہے۔نئی آنے والی احمدی بہنوں سے میں کہتا ہوں کہ آپ نے احمدیت اور اسلام کی تعلیم کو سمجھ کر قبول کیا ہے۔آپ یہ نہ دیکھیں کہ آپ کے خاوند کیسے احمدی ہیں یا دوسری خواتین کیسی احمدی ہیں۔آپ اپنے نمونے بنا ئیں۔اسلامی تعلیمات کی خالص مثال قائم کریں۔اپنے خاوندوں کو بھی دین پر عمل کرنے والا بنا ئیں۔اپنے بچوں کو بھی اسلام کی تعلیم کے مطابق تربیت دیں۔اور دوسری پرانی پیدائشی احمدی