اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 315

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 315 خطبه جمعه فرموده 2 ستمبر 2005(اقتباس) نئے لوگ ہیں۔تو اگلے دن صبح جب وہ احمدی خاتون آئیں جن کے ساتھ یہ آئی تھیں تو انہوں نے جو چلی گئی تھیں ان کو بتایا کہ میں تو اپنے فلاں عزیز کے گھر چلی گئی تھی ، رات میری بڑے آرام سے گزری ہے، پتہ نہیں تمہاری رات یہاں کس طرح گزرسکی۔تو اس نو مبائع نے کہا کہ جو نظارے میں نے دیکھے ہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضلوں سے نوازا ہے اور میری تسکین کے سامان پیدا فرمائے ہیں وہ بھلا تمہیں کہاں حاصل ہوئے۔تو دیکھیں نیک نیتی سے جلسے میں شامل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے فضلوں کی بارش کے نظارے دکھاتا ہے جو ایمان میں مضبوطی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی قبولیت کے نشان کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔تو یہ فضل صرف اس ایک عورت یا صرف اس ایک خاندان کے لئے مخصوص نہیں تھا بلکہ اس سارے ماحول کے لئے تھا۔ان سب شاملین کے لئے یہ فضل تھے جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعائیں کی ہیں۔“ اسی خطبہ میں احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر جلسہ کے ماحول کی ڈوری آپ کو تقویٰ سے دور لے گئی ہے تو وہ تین دن اس نماز کی طرح بے فائدہ ہیں جس میں آپ نے کسی مشکل اور مصیبت میں پڑنے کی وجہ سے، کسی ذاتی تکلیف کی وجہ سے رو رو کر دعا تو کر لی۔لیکن اس نماز نے آپ میں یہ تبدیلی پیدا نہ کی کہ آپ مستقل پانچ وقت اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کے مطابق نماز ادا کریں اور پھر زائد عبادتوں کی طرف توجہ کریں۔تو جلسہ بھی اسی طرح ہے کہ ایک جلسے میں سنی اور سکھی ہوئی باتوں کو اپنے دلوں میں بٹھانا ہے اور اس کا اثر اگلے جلسے تک قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے اور پھر اگلے سال ایک نئی روح، ایک نئے جوش، ایک نئے جذبے کے ساتھ پھر چارج (Charge) ہو کر آئندہ کے لئے پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔ورنہ آپ جلسے کے فیض سے حصہ پانے والے نہیں ہوں گے۔ہمیشہ دین اور تقویٰ پر قائم رہنے کیلئے دعائیں کریں انسانی دل کا کچھ پتہ نہیں ہوتا اس لئے ہمیشہ دین پر اور تقویٰ پر قائم رہنے کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔کسی کو کبھی یہ بڑائی کا احساس نہیں ہونا چاہئے کہ میرے اندر یہ نیکی ہے بلکہ نیکی کو